The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف نے کہا میرے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے کبھی نہیں کہا حملہ آور پاکستان سے تھے، طویل انٹرویو میں سے 3سطروں کو اچھالا گیا ، نوازشریف نے کہا میرےبیان کو توڑ موڑ کر  پیش کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پریس کانفرنس میں نواز شریف کے متنازع بیان پر وضاحتیں دیتے ہوئے کہا کہ آج نوازشریف سے ملاقات ہوئی، نوازشریف نے ملاقات میں بیان کی تردید کی ہے، قومی سلامتی کمیٹی میں نوازشریف کے بیان کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کبھی نہیں کہا حملہ آور پاکستان سے تھے، ممبئی حملے کےملزمان پاکستان سے نہیں تھے، پاکستان نے کبھی اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی۔

شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں بھارتی پروپیگنڈےکاحصہ نہیں بنناچاہئے، طویل انٹرویو میں سے 3سطروں کواچھالا گیا ، نوازشریف نے کہا میرےبیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، نوازشریف نے بتایا ممبئی حملے پر تنظیموں کی بات کی نہ کوئی مفروضہ ہے۔

نواز شريف پارٹی کے رہبر ہيں ، ميں اور پوری پارٹی نوازشریف کیساتھ کھڑی ہے

شاہدخاقان عباسی وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کہا ملکی سرزمين کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، وزيراعظم کے طور پر بھی قائم تھا اب بھی قائم ہوں، نان اسٹيٹ ايکٹر کے حوالے سے رپورٹنگ ٹھيک نہيں، قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی ميڈيا نے بيان کوتوڑمروڑکرپيش کيا گیا، سول ملٹری تعلقات ميں تناؤپيدا ہوتا رہتا ہے، حقائق سامنے آنے پر تحفظات دور ہو جاتے ہيں۔

انتخابات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اليکشن وقت پر ہونگے، مستعفی نہيں ہورہا ،31مئی تک وزیراعظم رہوں گا، مخلوق خلائی ہو يا زمينی ، اليکشن ضرور ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نواز شريف پارٹی کے رہبر ہيں ، ميں اور پوری پارٹی نوازشریف کیساتھ کھڑی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کے متنازع بیان پرقومی سلامتی کمیٹی  اجلاس کی صدارت کی تھی جس کے بعد انہوں نے نواز شریف سے ملاقات بھی کی۔

وزیراعظم نے نواز شریف کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں