The news is by your side.

آزادی اظہار کے نام پر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیئے: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ایک قرارداد پاس کروائیں گے اور اسے دنیا بھر میں پھیلائیں گے، آزادی اظہار کے نام پر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری 2 روزہ بین الاقوامی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس میں شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ کرکٹ کھیلنے سے پہلے ان کی ایک صوفی سے ملاقات ہوئی تھی، صوفی کی تعلیمات کے باعث وہ اسلام کی طرف راغب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ نام کا مسلمان تھا، والد صاحب کہتے تھے تو جمعہ کی نماز پڑھ لیتا تھا، آنکھوں کے سامنے سے پردہ اٹھا تو یقین ہوگیا کہ اللہ ہے۔ اللہ نے کرم کیا مجھے سیدھے راستے پر لے آیا، زندگی تبدیل ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ سیدھے راستے پر چلنا شروع کیا تو والد نے کہا قرآن پڑھنا شروع کرو، ’انہوں نے کہا کہ قرآن اس وقت سمجھ آئے گا جب دل میں ایمان کا جذبہ ہو۔ نبی کریم ﷺ سے محبت پیدا ہوئی تو سیدھے راستے کا جذبہ پیدا ہوا‘۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جس دن اللہ آپ کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے اس دن ایمان کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے، نبی کریم ﷺکی سیرت کا مطالعہ کیا تو مجھ میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اللہ نے انسان کو کسی مقصد کے لیے پیدا کیا، ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ دار انسان بن کر انسان ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اللہ نے نبی کریم کو خطاب رحمت اللعالمین ﷺ دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ رحم کرنے والے انسان تھے۔ فلاحی ریاست وسائل سے نہیں احساس اور رحم کی وجہ سے بنتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کو کہہ رہے ہیں 3 یونیورسٹیز میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پر ریسرچ کی جائیں۔ ہم چاہتے ہیں نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو پتہ چلے۔

انہوں نے کہا کہ مدینے کے بعد پاکستان اسلام کے نام پر بنا، کئی لوگ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان عظیم ملک بنے گا۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاکوں کے معاملے کو او آئی سی میں اٹھایا اور عالمی سطح پر احتجاج کیا۔ خاکوں کے معاملے پر ہماری حکومت نے ہالینڈ کی حکومت سے بات کی، ہمارے کہنے پر ہالینڈ کی حکومت نے خاکے واپس لیے اور مطالبہ تسلیم کیا۔ ’آزادی اظہار کے نام پر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیئے‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایک قرارداد پاس کرائیں گے اور اسے دنیا بھر میں پھیلائیں گے۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ قرارداد کے ذریعے بتائیں گے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی جرم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں