وزیراعلیٰ بلوچستان کا استعفیٰ، وزیراعظم نے سازش قرار دے دیا cm balochistan
The news is by your side.

Advertisement

شاہد خاقان عباسی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے استعفے کو سازش قرار دے دیا

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے بتایا کہ ثنا اللہ زہری پر کچھ اداروں کا دباؤ تھا جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دینے میں ہی عزت سمجھی۔

نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اراکین سے وجوہات پوچھی گئیں تو انہوں نے بتایا کہ ثنا اللہ زہری پر کچھ اداروں کا دباؤ ہے اس لیے انہوں نے استعفیٰ دینے میں ہی عزت سمجھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دینے کا جو قدم اٹھایا وہ درست تھا یا غلط اس بات کا فیصلہ پارٹی خود کرے گی کیونکہ اس معاملے پر ہماری کوئی رضامندی شامل نہیں تھی‘۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ ’اسمبلی اجلاس کے دوران ایف سی کی بھاری نفری موجود تھی، سرفراز بگٹی سے اس معاملے کی پوچھ گچھ ہوئی مگر کوئی خاطر خواہ جواب سامنے نہیں آیا‘۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ملاقاتیں اور جوڑ توڑ عروج پر

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’بات اقتدار کی نہیں بلکہ نظام کے جاری رہنے کی ہے، کوشش ہے حکومت اپنی مدت پوری کرے اور عوام کو انتخابات میں اپنا فیصلہ خود کرسکیں، اس قسم کے اقدامات ہوں گے تو قیاس آرائیاں ضرور جنم لیں گی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ تیس برسوں کے دوران 30 تماشے دیکھے اور وہی بلوچستان میں بھی دہرایا گیا، کیا اس طرح کے اقدامات سے صوبے کی سیاسی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے؟ ، ہم سیاسی لوگ ہیں اس لیے ہمیشہ کھل کر سیاست کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت کے خلاف کوئی سازش کرے تو اس کا میرے پاس کوئی حل نہیں ہے، میں خود 3 بار بلوچستان گیا مگر کسی رکن اسمبلی نے ایسی کوئی بات نہیں کی، جے یو آئی بلوچستان میں اپوزیشن کا حصہ ہے  اگر اسی طرح جمہوری عمل کو دبانے کی کوشش کی گئی تو سب کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اگلا وزیر اعلیٰ مسلم لیگ ن سے ہو، یہ ضروری نہیں، سرفراز بگٹی

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بلوچستان کے معاملات کا حل طریقہ کار کے ذریعے چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کا انتشار پیدا نہ ہو، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بلوچستان کے کئی علاقوں کو بی کلاس قرار دیا جس کا خمیازہ آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تاہم ثنا اللہ زہری نے اُس سے قبل ہی اسپیکر اسمبلی کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا جسے گورنر بلوچستان نے منظور کرلیا۔

بلوچستان میں نئے وزیراعلیٰ کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے ناموں سے مشاورت جاری ہے، مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی گزشتہ روز واضح اشارہ دے چکے ہیں کہ ’یہ ضروری نہیں نئے وزیراعلیٰ کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہو‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں