site
stats
پاکستان

وفاقی کابینہ کا اجلاس،افغان مہاجرین کے قیام میں3ماہ توسیع

اسلام آباد : وفاقی کابینہ نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام میں مزید 3ماہ توسیع کی منظوری کے ساتھ ساتھ ،بھاشا ڈیم کےلیے اراضی کے حصول اور معاوضوں کی ادائیگی کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام میں مزید تین ماہ توسیع کی منظوری دے دی گئی جس کے بعد رجسٹرڈ افغان مہاجرین اب مارچ دوہزار سترہ تک پاکستان میں قیام کرسکیں گے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ہمارے بھائی اور مہمان ہیں،مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے،سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے.مہاجرین کی واپسی کے لیے ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ غلط تاثر نہ ملے۔

وزیر اعظم نے افغان مہاجرین کے معاملے پر افغان نمائندوں اور قومی لیڈروں سے مشاورت کی ہدایت بھی کی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے موجود ہیں جن میں بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ افراد کی بھی ہے۔

افغان باشندوں کے دہشت گردی واقعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے حکومت پر افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اس حوالے سے کئی اقدامات بھی کیے جاچکے ہیں۔

وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں منظوری سے پہلے معاہدے کے تحت رجسٹرڈ افغان مہاجرین 31 دسمبر 2016 تک پاکستان میں رہ سکتے تھے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی معاہدے،گلگت بلتستان کی مالی امداد سمیت اٹھارہ نکات کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔وفاقی کابینہ نے دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کے حصول اور معاوضے کی ادائیگی کی منظوری بھی دی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ دیامربھاشا ڈیم کی بروقت تکمیل کےلیے تمام ممکنہ اقدامات اور متاثرہ افراد کومعاوضے کی ادائیگیوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی بحران کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے،بجلی کے قلیل وقتی،وسط مدتی اور طویل مدتی پیداواری منصوبے بھی شروع کیے جاچکے۔

واضح رہے کہ وزیرعظم نے کہا کہ داسو ڈیم کےلیے ورلڈبینک کی مدد سے رقم کا انتظام بھی کیاجارہا ہے اس کے علاوہ انہوں نے ملک میں جاری میگا پراجیٹکس کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top