The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا ایم کیوایم کے استعفے منظورنہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ کے اراکینِ کے استعفوں سے متعلق وزیراعظم کی زیرِصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ختم ہوگیا ، حکومت نے استعفے منظور نہ کرنے کا  فیصلہ کرلیا ۔

حکومت نے اجلاس میں اس معاملے کے تمام تر پہلووٗں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ ایم کیو ایم سے استعفے واپس لینے کی درخواسٹ کی جائے گی۔

وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو حکم دیا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفوں کی منظوری کی کاروائی آگے نہ بڑھائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق آج بروزجمعرات وزیراعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم کے اراکینِ قومی اسمبلی اورسینٹ کے استعفوں کے معاملے پراعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا تھا۔

اجلاس میں احسن اقبال، اسحاق ڈار، مشاہد اللہ خان اور چوہدری نثار کے علاوہ قانونی ماہرین کی ٹیم بھی موجودتھے۔

ماہرین کی ٹیم نے ایم کیو ایم اراکین کے استعفے منظور ہونے کی صورت میں آٗئندہ پیش آنے والے نقصانات اور پیچیدگیوں سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

دوسری جانب جمعیت العلمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن  اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے ایم کیو ایم کے پارلیمانی  لیڈر فاروق ستار سے رابطہ کیا ہے اور ان سے استعفے واپس لینے کی درخواست کی ۔

اسحاق ڈار نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین کے استعفوں کی منظوری کا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا۔

 اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے گزشتہ روز ہی ایم کیو ایم اراکین کے استعفوں پر کاروائی کا آغاز کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم نے گزشتہ روز کراچی میں جاری آپریشن پر رینجرز کے کردار کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 25، سینٹ کی 08 اور سندھ اسمبلی کی 51 سیٹوں میں سے 38 پر استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ باقی اراکین کے اس وقت بیرونِ ملک ہونے کے سبب استعفے نہ لئے جاسکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں