The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ انتخابات، عمران خان کے الیکشن کمیشن سے سوالات، قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں شفافیت برقرار نہ رکھنے پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور شو آف ہینڈ کے ذریعے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر اراکین نے عدم اعتماد کیا تو اپوزیشن بینچ پر بیٹھ جاؤں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ ’سینیٹ الیکشن سےمتعلق قوم سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس سے متعلق قوم کو سمجھانا بہت ضروری ہے، اگر یہ الیکشن سمجھ آگئے تو قومی مسائل بھی سمجھ آجائیں گے‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’6سال پہلے جب خیبرپختونخواہ میں ہماری حکومت تھی اُس وقت بھی سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا تھا، جس کے بعد اندازہ ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتاہے، یہ سلسلہ تیس، چالیس سال سے جاری ہے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’جس کو سینیٹر بننا ہوتا ہے وہ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو خریدتا ہے، سینیٹر بننے کے لیے پیسے دے کر منتخب ہونا کسی مذاق سے کم نہیں ہے کیونکہ سینیٹ میں ہماری ملک کی قیادت آتی ہے‘۔

خطاب کے اہم نکات

• یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کروانے کے لیے سینیٹ انتخابات میں پیسہ استعمال کیا گیا

 • حفیظ شیخ کی شکست کے بعد اپوزیشن دباؤ ڈال کر این آر او لینا چاہتی تھی

• الیکشن کمیشن نے ووٹ بیچنے والے مجرموں کو بچایا

 • سینیٹ انتخابات سے جمہوریت کو نقصان پہنچا

 • اراکین نے اعتماد کا ووٹ نہیں دیا تو اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گا

 • حکومت یا اپوزیشن کہیں بھی ہوں، چور ڈاکوؤں کا پیچھا کرتا رہوں گا

 • میری سیاسی جدوجہد کا مقصد قانون کی بالادستی ہے

 • ہم نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کی

 • جو اراکین اسمبلی فروخت ہوئے اُن کے بارے میں علم ہے

•  الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو ہارس ٹریڈنگ کا موقع فراہم کیا

• ووٹ بیچنے والے مجرموں کو الیکشن کمیشن نے بچا لیا

• اگر کرسی عزیز ہوتی تو این آر او دے دیتا

سینیٹ خریدو فروخت روکنے کے لیے اوپن بیلٹ کا بل لائے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے گزشتہ سینیٹ الیکشن کے بعد خرید و فروخت کے خلاف مہم شروع کی اور اوپن بیلٹ کا مطالبہ کیا کیونکہ 2018میں ہمارے20ارکان اسمبلی فروخت ہو گئے تھے، جن کو ہم نے پارٹی سے باہر نکالا، اوپن بیلٹ کا مطالبہ صرف میرا نہیں بلکہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کا بھی تھا، میثاق جمہوریت میں بھی انہوں نے اوپن بیلٹ پر اتفاق کیا تھا‘۔

’ہم قومی اسمبلی میں بل لائےکہ اوپن بیلٹ ہوناچاہیے، دونوں پارٹیاں جوکہہ رہی تھیں اوپن بیلٹ ہوناچاہیے انہوں نے اس بل کی مخالفت کی، جس کے بعد ہم کیس کو لے کر سپریم کورٹ گئے جہاں عدالت نے اس معاملے پر اپنی رائے دی اور شفاف انتخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی سپرد کی‘۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جو اوپن بلیٹ کی بات کرتے تھے وہ سب اس کے خلاف ہوگئے اور اوپن بلیٹ کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا‘۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کرپشن کے خلاف جب مہم چلائی تو اپوزیشن جماعتیں خوفزدہ ہوگئیں، ان لوگوں کے خلاف درج ہونے والے کرپشن کیسز ہم نے نہیں بنائے بلکہ انہوں نے اپنے دور میں ایک دوسرے کے خلاف بنائے، ہماری حکومت میں صرف پانچ فیصد مقدمات درج ہوئے ‘۔

اپوزیشن نے کرونا وار فیٹف کے معاملے پر دباؤ ڈالا

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کرونا وبا کے دوران بھی اپوزیشن نےمجھ پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کی، پاکستان کو بلیک لسٹ میں جانے سے بچانے کے لیے ہم فیٹف بل لائے مگر انہوں نے مخالفت کی اور دباؤ ڈال کراین آر او لینے کی کوشش کی، اگر  پاکستان بلیک لسٹ ہوجاتا تو ہم پر عالمی پابندیاں لگ جاتیں، جس کے بعد بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی اشیاء مزید مہنگی ہوجاتیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف بل ملک کیلئےتھا، اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی اوریہ ذاتی بل لے آئے، اپوزیشن کی کوشش تھی کسی طرح نیب کوختم کردیا جائے‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کادنیا میں ایک مقام ہوتا تھا، اُس وقت ہمارےصدرکا ایئرپورٹ پر کیا جاتا تھا، ہماری ایک بہترین تاریخ تھی اس کےبعد سیاست میں پیسہ چلناشروع ہوا، 1985میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پاکستان نیچے جانا شروع ہوا، پاکستان میں لوگ اقتدار میں پیسہ بنانے کے لیے آتے ہیں، عہدہ سنبھالنے کے بعد فیکٹریاں لگنا شروع ہوجاتی ہیں‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’دوسرےممالک اس لیےترقی کرگئےکیونکہ وہاں قانون کی بالادستی اور انصاف ہے، ہمارا مدینہ کی ریاست کا بنیادی نظریہ قانون اور انصاف کی فراہمی ہے جہاں طاقتور اور کمزور دونوں کو قانون کی گرفت میں لایا جاسکے، بدقسمتی سے پاکستان میں غریب اور امیر کے لیے الگ قانون ہے، طاقتور شخص سرکاری زمینوں پر قبضےکرتاہے مگر اسےکوئی نہیں پکڑتا، آج جیلوں میں آپ کو غریب لوگ ہی نظر آئیں گے، جن معاشروں میں طاقتور کو سزا نہ دی جائے وہ معاشرہ ظلم کی طرف چلا جاتا ہے، ملک کاوزیراعظم یا وزراچوری کرتےہیں تو ملک کو کمزورکردیتے ہیں‘۔

میں بھی اربوں روپے بنا سکتا ہوں

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بطوروزیراعظم ایک پروجیکٹ میں اربوں روپے بناسکتاہوں، ایک پاور پروجیکٹ کی قیمت بڑھا کر اپنے اکاؤنٹ میں پیسے ڈلوا کر تیس ارب کی ڈیل کرسکتا ہوں، ایسی ڈیل کی قیمت غریب ادا کرتا ہے کیونکہ اُسے اضافی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے، یہ بات صرف اس لیے کررہا ہوں کیونکہ پاکستان میں ایسا ہوتا رہا ہے‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سے10ارب ڈالرمنی لانڈرنگ ہوکربیرون ملک جاتی تھی، جوپیسہ غریب پرخرچ ہوناچاہیے وہ کرپشن کی صورت میں باہرچلاجاتا تھا مگر ہم نے اس سلسلے کو روکا‘۔

’میں چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، میری جدوجہدکا مقصد قانون کی بالادستی ہے،  سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کےحق میں یہ اس لیے متحد ہوئے کیونکہ انہیں پیسہ چلانا تھا، سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت تھا اسی دوران الیکشن کمیشن نے بھی اوپن بیلٹ کی مخالفت کی‘۔

یوسف رضا گیلانی پر ووٹ خریدنے کا الزام

اُن کا کہنا تھا کہ ’یوسف رضاگیلانی کابیٹا پیسوں سےلوگوں کےضمیر خریدرہا تھا، جس کی ویڈیو سامنے آئی اور سب نے دیکھی، ہم توسینیٹ میں اکثریت میں آگئے اور ساری نشستیں لے لیں کیونکہ اپوزیشن نے سارا زور حفیظ شیخ کی نشست پرلگایا اور ضمیر کا سودا گر اراکین کے ضمیر خرید رہا تھا‘۔

حفیظ شیخ کی شکست کا مقصد دباؤ میں لا کر این آر او لینا تھا

’حفیظ شیخ کو ہرانےکیلئے انہوں نے ہمارےممبران کوخریدا کیونکہ اپوزیشن اس شکست کے بعد مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار کا دباؤ ڈالنا چاہتی تھی تاکہ این آر او لے لیں‘۔

فروخت ہونے والے اراکین کا علم ہے

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جو اراکین اسمبلی فروخت ہوئے ہمیں اُن کے بارے میں علم ہے، پیسے دے کر سینیٹر بننا کون سی جمہوریت ہے، ہم اپنےمستقبل کےلیےکیامثال ثابت کررہے ہیں کیونکہ پیسوں کی لین دین کے ثبوت ویڈیو کی صورت میں چل رہے ہیں، جب قیادت رشوت کی لین دین کرے گی تو تھانے دار اور پٹواری کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا‘۔

وزیراعظم کی الیکشن کمیشن کے خلاف چارج شیٹ

وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نےآپ کوموقع دیا مگر کیا وجہ تھی جو 1500بیلٹ پیپرز  پر بار کوڈنگ نہیں کی جاسکی، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع فراہم کیا اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا، میں نے سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی پیسوں کی لین دین کی نشاندہی کردی تھی‘۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ ’سینیٹ انتخابات سےجمہوریت اوپر گئی یانقصان ہوا، قوم پیغام دیتی ہےکہ کرپشن کرنے والا ہم میں سےنہیں تو الیکشن کمیشن نے پیسے تقسیم کرنے والی ویڈیوکی تحقیقات کیوں نہیں کیں؟  یوسف رضاگیلانی  پیسےچلا کر سینیٹر بنے گا  تو کیا ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوپائے گا؟‘۔

’چور ڈاکؤوں کا پیچھا کرنا کیا صرف عمران خان کی ذمہ داری ہے، کیا آئین چوری کرنےکی اجازت دیتاہے؟ کیا آپ اپنے ملک کو اوپر لے کر جانا چاہتے ہیں یہ ان چوروں کیساتھ وقت گزارناچاہتے ہیں‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے ووٹ بیچنے والےمجرموں کو بچالیا کیونکہ پوری قوم نے دیکھا کہ ایک شخص پیسے کا استعمال کر کے جیت گیا ‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اکیلےکرپشن ختم نہیں کرسکتا، اس میں ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کاخیال تھا کہ یہ مجھ پر عدم اعتمادکی تلوار لٹکائیں گے اور میں انہیں این آر او دے دوں گا مگر یہ ممکن نہیں کیونکہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، دونوں میں رہ کر چوروں ڈاکوؤں کا پیچھا کروں گا، اگر مجھے عہدہ یا کرسی عزیز ہوتی تو انہیں این آر او دےدیتا‘۔

اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان

عمران خان کہنا تھا کہ ’میں پرسوں خود قومی اسمبلی سے اعتمادکاووٹ لوں گا کیونکہ وہ شوآف ہینڈ کے ساتھ ہوگا، اگر اراکین نے عدم اعتماد کیا تو اُن کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن بینچ پر جاکر بیٹھ جاؤں گا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں