The news is by your side.

Advertisement

مہنگائی کو روکنے کے لیے بہت بڑی سبسڈی دی ہے: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم نے مہنگائی کو روکنے کے لیے بہت بڑی سبسڈی دی ہے، سندھ کے علاوہ پاکستان کے ہر خاندان کوا س ماہ کے آخر تک ہیلتھ کارڈ مل جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق احساس رعایت راشن اسکیم کے اجرا کی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انسانیت کا درد رکھنے والا ہی فلاحی کام کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم کو احساس پروگرام کا پورا کریڈٹ جاتا ہے، اب ہم ریاست مدینہ کے راستے پر چل رہے ہیں، معاشرے میں انسانیت کا نظام لانا ریاست کی ذمہ داری ہے، محروم طبقوں کی فلاح و بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی بالا دستی مافیاز کے خلاف بڑی جنگ ہے، کرونا وائرس کے دوران احساس پروگرام کے ذریعے مجبور لوگوں کو پیسے پہنچائے، کرونا کے دوران کاروبار بند ہونے سے پوری دنیا کے غریبوں کو تکلیف ہوئی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام پر ورلڈ بینک نے کہا یہ دنیا کے 4 ٹاپ پروگرامز میں سے ہے، معیشت اور لوگوں کو کرونا سے بچانے میں پاکستان دنیا کے پہلے 3 ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک خواتین اور بچیوں کو نہیں پڑھائیں گے تو حقوق پورے نہیں ہوتے، عورت کو تعلیم دیتے ہیں تو وہ پورے خاندان کو اوپر لے کر آتی ہے، اپنی والدہ کی محنت کی بدولت میں آج یہاں ہوں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ خواتین معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں میں اضافہ نہ ہوتا تو پیٹرول اور بجلی کی قیمت کم نہیں کر پاتا، اللہ کا شکر ہے کہ آج ٹیکس کلیکشن ریکارڈ سطح پر ہیں، ٹیکس اہداف بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں پر پیسہ خرچ کرتے رہیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھی دنیا میں سستا ترین ملک ہے، پورے برصغیر میں ڈیزل اور پیٹرول پاکستان میں سب سے سستا ہے، ہم نے مہنگائی کو روکنے کے لیے بہت بڑی سبسڈی دی ہے۔ آٹا، دالیں اور گھی پر لوگوں کو 30 فیصد رعایت ملے گی، سندھ کے علاوہ پاکستان کے ہر خاندان کوا س ماہ کے آخر تک ہیلتھ کارڈ مل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہیلتھ کارڈ پر ڈاکٹرز اسپتال میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا گیا، ہیلتھ کارڈ ہمارا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ امیر ترین ملکوں میں بھی ہیلتھ انشورنس کے لیے پیسے دینا پڑتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں