The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان کا سربراہان مملکت کے اخراجات کے تعین کیلئے بل لانے کی ہدایت

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے سربراہان مملکت کے اخراجات کے تعین کیلئے بل لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا قوم کی آمدن کومد نظر سربراہان کے اخراجات کا تعین ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی موجودہ سیاسی اور سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال
کیا گیا اور ملک میں مہنگائی کی صورت حال پرکابینہ میں کھل کربحث ہوئی۔

بعض وزرا نے بڑھتی مہنگائی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا، مراد سعید،شیخ رشید، فیصل واوڈا اور دیگر وزرا نے مہنگائی کا معاملہ اٹھایا۔

وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا مشاورت جاری ہےحکومت جلدایکشن پلان پر عمل شروع کرےگی۔

فیصل واوڈا نے سابق اعلی ٰحکومتی شخصیات سے مراعات کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا سابق صدور،گورنر اور وزرائےاعلیٰ کودی گئی غیرضروری مراعات واپس لی جائیں، حکومت کفایت شعاری مہم پر عمل کر رہی ہے، سابق حکومتی شخصیات غیر ضروری مراعات کی مستحق نہیں۔

شیخ رشید نے کابینہ اجلاس میں داوؤں کی قیمتوں میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا عوام میں جاتے ہیں تولوگ آوازےکستے ہیں، مہنگائی حکومت کی سب سےبڑی دشمن ہے،غریب پس رہاہے، آٹے گندم کا بحران ہوسکتا ہے، درآمد بڑھا کر سبسڈی دی جائے۔

کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سربراہان مملکت کے اخراجات کے تعین کیلئے بل لانے کی ہدایت کردی اور کہا قانون سازی کے ذریعے صدر اور وزیراعظم کے اخراجات متعین کئے جائیں۔

وزیراعظم نے قانون سازی کیلئے مشیرپارلیمانی امور بابر اعوان کوذمہ داری سونپ دی اور کہا صدر اور وزیر اعظم کے اخراجات واجبی ہونے چاہییں، سابق سربراہان میں سے ایک نےصرف گھر کی چار دیواری پر 80 کروڑ لگایا، قوم کی آمدن کومد نظر سربراہان کے اخراجات کا تعین ہونا چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے ذریعے صدر اور وزیراعظم کے اخراجات متعین کئے جائیں، برطانوی شہزادہ جو اخراجات براداشت نہیں کر سکتا وہ عوام پرمسلط کرناظلم ہے۔

وزیراعظم نے بابراعوان اور شفقت محمود کوسابق وزرااور صدور کی مراعات دیکھنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے سابق سربراہان کےاخراجات کی مدمیں قومی خزانے سے خرچ پیسے کی تفصیلات طلب کرلیں۔

دوسری جانب کابینہ نے 12 نکاتی ایجنڈا پر بھی غور کیا اور متعدد نکات کی منظوری دے دی ، کابینہ کواسلام آباد میں تجاوزات ہٹانے سےمتعلق بریفنگ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں امپورٹ ایکسپورٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 2020 ، پی آئی اےبورڈکے لیے ڈائریکٹرز اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری دے دی۔

سیلاب سےمتاثرہ افریقی ملک نائیجر کیلئے امدادی سامان بھیجنے اور سرکاری اداروں کےسربراہان کو ایڈیشنل چارج دینے کے معاملے پر غور کیا گیا جبکہ
نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کیلئے کابینہ کمیٹی کے قیام اور سی ڈی اے کے بجٹ تخمینہ 2020-21 کی منظوری بھی دی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں