The news is by your side.

Advertisement

وفاقی کابینہ کا بڑا فیصلہ ، پاور سیکٹر سے متعلق انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری

وقت سے پہلے ریٹائر ملازمین 6 ماہ سے زیادہ سرکاری رہائش استعمال نہیں کر سکیں گے

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پاور سیکٹر سے متعلق انکوائری رپورٹ پبلک کرنے اور انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 5 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ وفاقی کابینہ نے کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

کمیٹی برائی توانائی کےچیئرمین محمد علی نے رپورٹ اورسفارشات اجلاس میں پیش کیں، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر پاور سیکٹر سے متعلق انکوائری رپورٹ پبلک کرنے اور انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ خسروبختیار،ندیم بابر،رزاق داؤداجلاس میں بریفنگ کےوقت نہیں بیٹھے، کابینہ کے اجلاس میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ مفادات کے ٹکراؤ کے باعث کیا گیا۔

کابینہ نےتعمیراتی شعبے کوسیلز ٹیکس سےچھوٹ اور ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائشگاہ سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی بھی منظوری دی ، پالیسی کے مطابق وقت سے پہلے ریٹائر ملازمین 6 ماہ سے زیادہ سرکاری رہائش استعمال نہیں کر سکیں گے۔

کابینہ نے مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات اور اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی جبکہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کردی گئی۔

یاد رہے گذشتہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 6 نکاتی ایجنڈےپرغورکیاگیا تھا جبکہ ای اوبی آئی پنشن میں اضافےکی سمری موخر کردی گئی تھی۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ نے قومی رابطہ کمیٹی کےفیصلوں اور کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کےگزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں کی توثیق کی جبکہ مرغزار چڑیا گھر کا انتظامی کنٹرول وزارت ماحولیاتی تبدیلی کےسپردکرنےکی منظوری دی گئی تھی۔

وفاقی کابینہ نے احساس ایمرجنسی کیش ٹرانسفرز پرایڈوانس انکم ٹیکس چھوٹ کی منظوری اور کورونا سے بچاؤ، احتیاط سے متعلق درآمدات پر برانڈ کی شرط ختم کرنے کی بھی منظوری دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں