The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی منظوری دے دی

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں انہوں نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی اصولی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تعمیراتی شعبے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ، سیکریٹری ہاؤسنگ، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی انور علی اور معاون اطلاعات فردوس عاشق اعوان شریک ہوئیں۔

اجلاس میں تعمیرات کے شعبے میں کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر مشاورت کی گئی۔ وزیر اعظم کو تعمیرات کے شعبے میں حائل مشکلات اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشاورت سے پالیسی، قوانین اور قواعد کو آسان بنایا جا رہا ہے، آن لائن معلومات کے لیے ویب پورٹل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ محکموں کے مطلوبہ اجازت ناموں کے حصول کے نظام کو سہل بنا دیا گیا۔ اجازت ناموں اور این او سی کی جگہ رائج قوانین سے مطابقت نظام متعارف کروایا جائے گا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ زوننگ اور تعمیرات کے ذیلی قوانین پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، نظام میں شفافیت کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جا رہا ہے، پہلے مرحلے میں بڑے شہروں اور سرکاری اراضی کار یکارڈ ڈیجیٹل ہوگا۔ لانگ ٹرم پلان میں ملک بھر میں اراضی کا ریکارڈ ڈیجیٹل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اولین ترجیح ہے، شعبے کے فروغ کے لیے ضروری ہے اسے صنعت کا درجہ دیا جائے۔ شعبے سے منسلک افراد کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ تعمیرات سے متعلق اجازت ناموں اور این او سیزکی شرائط کم کریں، کثیر المنزلہ عمارات کے لیے سی اے اے کی اجازت کی شرط ختم کردی گئی۔ بغیر رکاوٹ کثیر المنزلہ رہائشی اور کاروباری عمارات تعمیر کی جاسکیں گی۔ لینڈ کورٹس کے قیام سے اراضی کے مسائل جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی بھی اصولی منظوری دے دی۔

اس سے قبل اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کنٹریکٹ انفورسمٹ پر عمل اور لینڈ ریونیو ریکارڈ کو مزید منظم کیا جائے۔ نظام جدید خطوط پر استوارکرنے کے لیے وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی تھی کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں