The news is by your side.

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس لانے کے اقدامات پر غور

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس وطن لانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور خصوصی معاون شہزاد ارباب شریک تھے۔ اجلاس میں قانونی اصلاحات کمیٹی نے وزیر اعظم کو قانونی اصلاحات پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو برطانیہ، دبئی اور دیگر ممالک میں غیر قانونی جائیداد کی تفصیلات پیش کی گئیں، منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس وطن لانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ مختلف ممالک سے قانونی معاہدوں پر بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اصلاحات کا مقصد موجودہ قوانین میں ترامیم اور نئے قوانین کا نفاذ ہے، جلد انصاف کے لیے ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ریاست کی جانب سے قانونی معاونت پر قوانین متعارف کروائے جا رہے ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ وراثت سمیت خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے پر قوانین متعارف کروا رہے ہیں، وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ ویجیلنس کمیشن تشکیل دیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے بھی انصاف کے حصول کو آسان بنایا جا رہا ہے۔

وزیر قانون نے بریفنگ میں کہا کہ میوچل لیگل اسسٹنٹس بل جلد متعارف کروایا جائے گا، بل بیرون ممالک سے دو طرفہ قانونی معاونت کے معاہدوں پر ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شہریوں کے حقوق، آسان اور سہل انصاف کی فراہمی بنیادی ذمے داری ہے۔ انصاف کی فراہمی وسائل نہیں ریاست کے احساس ذمے داری سے وابستہ ہے، آسان، سہل اور جلد انصاف تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کمزور طبقوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ خواتین، بچوں اور گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان برسر اقتدار آنے کے بعد کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف خاصے متحرک ہیں۔

چند روز قبل وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا جہاں دونوں ممالک نے وائٹ کالر کرائم کے خلاف اقدامات اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔

ایک ماہ قبل پاکستان اور برطانیہ کے درمیان انصاف اور احتساب کا معاہدہ بھی طے پاچکا ہے۔ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پروگرام شروع کیا جائے گا۔

برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے منی لانڈرنگ کے تدارک کے لیے مل کر کام کرنے پراتفاق کیا تھا۔ معاہدے میں پاکستانی ملزمان کی حوالگی اور پاکستانی اثاثوں کی ریکوری کے لیے دوبارہ کام کرنا بھی شامل تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں