The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے اْگئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ صورت حال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا، وزیراعظم نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر کوئی کشیدگی نہیں ہے اس معاملے پر قیاس آرائیاں زیادہ کی گئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میرے اور فوجی قیادت میں جو تعلقات ہیں اس سے بہتر نہیں ہوسکتے، ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے، تکنیکی خامی تھی جو دور ہوگئی یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ افغان صورتحال کے تناظر میں ڈی جی آئی ایس آئی کام جاری رکھتے، ہمیں اپنے منشور پر عملدرآمد کرنے پر توجہ دینی ہے۔

افغانستان میں استحکام ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس میں افغانستان کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی، رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی پہلی کوشش ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران پیدا نہ ہو، افغانستان میں استحکام ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا۔

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ہندو ارکان اسمبلی کا مذہب کی جبری تبدیلی کا بل مسترد ہونے کا شکوہ کیا گیا، لال چند ملہی نے کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی روکنے کے لیے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کے لیے سب سے زیادہ اقدامات کیے ہیں، مذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف بل میں کچھ مسائل ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، خود یہ سارا معاملہ دیکھ رہا ہوں۔

حکومت کو مہنگائی کا احساس ہے

وزیراعظم نے ارکان اسمبلی کو حلقوں میں زیادہ وقت گزارنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبے ایم این ایز کی مشاورت سے شروع کریں گے، صحت کارڈ، احساس کارڈ بھی ارکان اسمبلی کی مشاورت سے دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی خطے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے، ہم لوگوں کو سمجھا نہیں پارہے ہیں کہ مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی کا احساس ہے، مہنگائی کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش ہے، عالمی منڈی میں چیزوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں