The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف آتے ہی عدلیہ پھر فوج پر حملہ کرے گا،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کیسز ختم ہوتے ہی لندن بیٹھا بھگوڑا واپس آئے گا اور آتے ہی پہلےعدلیہ اور پھر پاک فوج پر حملہ کریگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کمالیہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارباران چوہوں کوپیغام دےرہاہوں،حکومت آنی جانی معمولی چیزہے، میری جان بھی چلی جائےان لوگوں کوکبھی نہیں چھوڑوں گا، انہوں نےاربوں کی کرپشن کی،عالمی سطح پران کےثبوت آئے ان کیخلاف عالمی سطح پرثبوت آئےاور یہ الزام عمران خان پر لگاتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک اسلام کے نام پر سیاست کرتے ہیں اور ڈیزل کے پرمٹ پر بک جاتے ہیں، دوسری اس ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری ہے جس پر اربوں روپےکرپشن کے کیسزہیں، ایک چیری بلوسم شریف ہیں جس کے چپڑاسی مقصود کے اکاؤنٹ میں 375 کروڑ روپے آجاتے ہیں، تمام نوکروں کے اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے آجاتے ہیں، شہبازشریف کا کیس لگا ہوا ہے لیکن اب تک بچا ہوا ہے، کبھی کمردرد، کبھی وکیل بیمارہوجاتا ہے اس کو بھی پتہ ہےعمران خان تھوڑااورچل گیا تو شہباز شریف نے جیل میں جانا ہے، چوتھا فنکار لندن میں بیٹھا ہوا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ حکومت گرائیں اور اقتدا رمیں آئیں اور اقتدار میں آتے ہی ان کی کوشش ہےنیب کو ختم کریں تاکہ کرپشن کیسزختم ہوں، کرپشن کیسز ختم ہونگےتو لندن میں بیٹھا بھگوڑا واپس آئے گا، الیکشن کمیشن تو ویسے ہی ان کے کنٹرول میں ہے، لندن میں بیٹھا بھگوڑا پاکستان واپس آکر لفافہ صحافت چلائے گا اور سب سے پہلے عدلیہ اور پھر پاک فوج پر حملہ کریگا۔ یہ شخص ابھی سےعدلیہ کوتقسیم کررہاہے،ججز کوساتھ ملارہاہے۔

وزیراعظم کا مزید کہن تھا کہ یہ شخص کبھی آزادعدلیہ نہیں چلنےدےگا کیونکہ کیسزختم کراناچاہتاہے، عدلیہ کےبعد یہ شخص پاکستان کی مسلح افواج پر حملہ کرے گا کیونکہ یہ آج تک اس شخص کی پاک فوج کیساتھ نہیں چلی، یہ خود آرمی چیف بناتا ہےاور پھر اس سے ہی لڑتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ آرمی چیف کو اس کی چوری کا سب سے پہلے پتہ چلتا ہے، آرمی چیف سےاختلاف کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ کنٹرول چاہتا ہے، پاکستان کے دیگر اداروں کو یہ کنٹرول کرچکا ہوتا ہےفوج پر کنٹرول چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس شخص نے سپریم کورٹ پرحملہ کیا، جسٹس سجادعلی شاہ پرحملہ کرایا،عدلیہ میں بریف کیس چلائے، نواز شریف کواس وقت سے جانتا ہوں جب یہ کرکٹ کھیلتا تھا، اس شخص نےسیاست میں پیسے چلائے، چھانگا مانگا کی سیاست کی، گزشتہ دورمیں یہ شخص مودی سےچھپ چھپ کرمل رہا تھا، یہ چھپ کراس لیے مل رہا تھا کہ اسے پاک فوج سے ڈر لگ رہا تھا، ڈان لیکس میں بھارت کوپیغام دیاگیامیں تودوستی چاہتاہوں فوج نہیں مانتی۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان چوروں کوخوف ہے کورونا میں بھی پاکستان بہترانداز میں نکل گیا، معیشت بھی بہترہوگئی، کسانوں کو ان کی محنت کی اصل رقم دی گئی،آج بھی  برصغیرمیں سب سے کم بےروزگاری پاکستان میں ہے، عالمی مہنگائی کےمقابلےپاکستان میں مہنگائی کم ہے، ریکارڈ ایکسپورٹ، ریکارڈ ٹیکسٹائل پروڈکشن ریکارڈ فصلیں ہوئیں، اللہ کاشکر ہے ملک سیدھے راستے پر ہے یہ یہ لوگ اسی لیےسازش کرکےحکومت گراناچاہتےہیں۔ اب یہ سارےمل کرسوچ رہے ہیں کہ عمران خان کو کیسے نکالیں کیونکہ یہ سمجھ رہے تھے کہ عمران خان ملک کو مسائل سے نہیں نکال سکےگا لیکن ہم نےمعیشت کو بہتر کیا، پھر کورونا آگیا ہم نےعوام کا خیال رکھا، کورونا میں نوازشریف، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور ان سب کے بچے باہر تھے ایسا لگتا ہے کہ یہ گوالمنڈی میں نہیں بلکہ کوئین الزبتھ کے گھرمیں پیدا ہوئے تھے، شریف فیملی کی پنکچرکی دکان تھی آج رہن سہن دیکھ لیں۔

عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری کاشکریہ اس کے بعد جس کی قیمت نیچے آگئی ڈیزل اس کا بھی شکریہ اور سب سے زیادہ شکریہ پاکستان کے سب سے زیادہ جوتے پالش کرنے والے ایکسپرٹ کا کہ ان کی شکلیں دیکھ کر لوگوں کو خوف ہوا کہ یہ پھر سے واپس نہ آجائیں اور ان کے آنے کے خوف سے عوام کے دل میری طرف پھر گئے، جب تک قوم اچھےبرے کی تمیز نہیں کرتی وہ مرجاتی ہے، اللہ نے نیوٹرل کا فیصلہ انسان کو نہیں دیا، انسان کو اچھائی کیساتھ کھڑا ہونا ہے یا برائی کیساتھ کھڑا ہونا ہے، ان لوگوں پرنیب کےکیسزہیں،  ایک شخص کا نام لیں تو ڈیزل ڈیزل کے نعرے کیوں لگتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں حسین حقانی کہتا ہے کہ زرداری کو پاک فوج سےبچالو، یہ پیسوں کےغلام کبھی عوام کیلئے آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنا سکتے،  شہباز شریف کہتےہیں یورپی یونین کے سفیروں پر تنقید نہیں کرنی چاہیےتھی، میں پوچھتا ہوں کیوں تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی، یورپی یونین کےسفیروں نےپروٹوکول توڑاتھا، شہبازشریف جوتے پالش کرنے والوں کی یورپ عزت نہیں کرتا، شہبازشریف کہتےہیں عمران خان کو ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہنا چاہیے تھا، کیوں نہیں کہنا چاہیے تھا ہم نے دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں شرکت پر 80 ہزارجانیں قربان کیں، 35 لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی،100 ارب ڈالرسےملکی نقصان ہوا، امریکی جنگ میں شرکت سےپاکستان کوکیافائدہ ہوا، افغانستان میں جنگ نہیں جیتی گئی تو پاکستان کو ذمے دار ٹھہرایا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ کسی ملک کیساتھ اپنے تعلقات خراب کریں لیکن میں شہباز شریف سے کہتا ہوں کہ تعلقات اور جوتے پالش میں بڑا فرق ہے، شہبازشریف، ان کا بڑا بھائی اور زرداری ہمیشہ یورپی کی غلامی کرینگے، یہ لوگ غلامی اس لیےکرینگے کیونکہ ان کا اربوں روپے وہاں پڑا ہے، یہ لوگ کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنائیں گےکیونکہ ان کاپیسہ وہاں ہے، میں قوم سے کہتا ہوں کہ کبھی اس شخص کوووٹ نہ دو جس کا پیسہ بیرون ملک رکھا ہوا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کل سب نےاسلام آباد پہنچنا ہے، اللہ کا حکم ہے کہ امربالمعروف ونہی عنی المنکر یعنی برائی کیخلاف اور اچھائی کیساتھ کھڑے ہو، ان چوروں کےملک میں لوٹ مار کے دن ختم ہوگئےہیں، عوام میں جذبہ اورجنون ہےاور اسی جذبے اور جنون کے ساتھ کل اسلام آباد میں عوام بڑی تعداد میں آرہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں