The news is by your side.

دنیا کو افغانستان کی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ، وزیراعظم عمران خان

دوشنبے: وزیر اعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی، پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے شنگھائی تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او اجلاس میں شرکت باعث فخر ہے ، کورونا سے پوری دنیا کی معیشتیں متاثر ہوئیں اور خطے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

کورونا کے اثرات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ تجارت،سرمایہ کاری اور روابط کیلئے یہ اہم فورم ہے، کورونا کی صورتحال میں دنیا کاہیلتھ سیکٹر مقابلہ نہیں کرسکتا، اس صورتحال میں ہم نےصحت کیساتھ معاشی صورتحال پر بھی نظررکھی، پاکستان دنیا کیساتھ ملکر کورونا وبا کے خاتمےکیلئے کردارادا کرتا رہے گا۔

ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی دوسرا بڑا چیلنج ہے جو دنیا کو لاحق ہے ، ہم نے مسائل کے حل کیلئے ملکر کام کرنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ہم نے بلین ٹری منصوبہ شروع کیا۔

دہشتگردی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے دنیا میں دہشتگردی کومذہب سے جوڑاجاتاہے، 9الیون کی سالگرہ پردنیا کو عالمی سطح پر دہشتگردی کا سامناہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں معاشی نقصان کیساتھ ہمارے 10لاکھ لوگ متاثرہوئے۔

افغانستان سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پوری دنیا کی توجہ کامرکز ہے ، افغانستان کا مسئلہ ہم سب کو ملکر حل کرنا ہوگا، یادرکھیں کہ پچھلی افغان حکومت 75فیصد غیرملکی امداد پر چل رہی تھی، طالبان نے افغانستان کا خونریزی کے بغیر کنٹرول حاصل کیا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آج افغان عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے، یہ دنیا کا افغانستان کیساتھ کھڑے ہونے کاوقت ہے، افغانستان میں انسانی بنیادوں پر کام ہوناچاہیے۔

انھوں نے کہا افغانستان میں ایساسیاسی ڈھانچہ ہوناچاہیےجس میں تمام گروپوں کی نمائندگی ہو، طالبان کو سیاسی استحکام کیساتھ ،افغان عوام کابھروسہ جیتنا ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان ایساملک ہے جس میں کوئی باہر سے حکمرانی نہیں کرسکتا، افغانستان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا، پاکستان خطے میں امن کا کردار ادا کرنیوالا اہم ملک ہے ، ہم نے افغانستان سے متعلق ہمیشہ یکساں مؤقف رکھا۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آچکی ہے ، افغانستان کو تنہا چھوڑا تومختلف بحران جنم لیں گے ، پاکستان افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتاہے اور سمجھتاہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی ، مضبوط مواصلاتی نظام کے خطے میں مثبت اثرات آئیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں