The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان کا پولیو کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے پولیو کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاق اورصوبوں کو پولیو کےخلاف مؤثر مہم چلانے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس بے قابو ہونے پر وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس مین ڈاکٹر ظفر مرزا،بابر بن عطا اورلیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز شریک تھے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان ، صوبے کے چیف سیکریٹری اور وزیر اعلی ٰبلوچستان جام کمال نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کے معاون برائے انسداد پولیو بابر بن عطابریفنگ دی جبکہ عالمی اداروں کے سربراہان ، کینیڈا کے ہائی کمشنر، یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو پولیوکیسز سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ، جس میں بتایا گیا گزشتہ سال خیبرپختونخوا میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا، 10 اضلاع میں رواں سال پولیو کے 41 کیس سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق بنوں ڈویژن میں 30 پولیو کیس رپورٹ ہوچکے ہیں ، مختلف اضلاع میں 76 پولیو ورکرز اور اہلکار شہید کیےگئے، ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے سینئر افسران کومختلف ڈویژن میں متحرک کیاگیا۔

نکات میں بتایا گیا انکاری والدین کو راضی کرنے کے لیےبااثرافراد سے رابطے کیے ، ویکسی نیشن پرمنفی پروپیگنڈا ختم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت پولیو سے متعلق اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا ہے ، جس مین پولیو کے بڑھتے کیسز پر وزیراعظم کاتشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاق اورصوبوں کو پولیو کےخلاف مؤثر مہم چلانے کی ہدایت کردی اور کہا پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پاک فوج کی جانب سےپولیو ٹیموں کومکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ، اعلامیہ میں کہا گیا کہ دور دارز علاقوں میں رسائی اورویکسی نیشن کی فراہمی میں پاک فوج معاونت کرےگی جبکہ عالمی اداروں کی بھی پاکستان میں پولیو کے خاتمےکیلئےتعاون کی یقین دہانی کرائی۔

پولیو سےمتعلق اجلاس میں بل گیٹس کی جانب سےلکھاگیاخط پیش کیا گیا۔

معاون خصوصی برائے انسداد پولیو نے پولیو کے خاتمے کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا 2017-18 میں حکمت عملی کی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ، ملک کےدیگر حصوں خصوصاًبنوں میں پولیو کیس سامنے آئے، پولیو کےکیس گزشتہ سال کی ناقص حکمت عملی کانتیجہ ہے۔

فوکل پرسن برائےانسداد پولیو نے4 نکاتی نئی حکمت عملی سےشرکاکوآگاہ کیا اور کہا انسداد پولیومہم آگہی کےلیےمیڈیا،سوشل میڈیا کوشامل کیاجائےگا جبکہ سوشل میڈیا پر جاری پولیو مخالف مہم کے خلاف اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

یاد رہے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پولیو وائرس بے قابو ہونے اور پولیو کے بے شمار کیسز سامنے آنے پر وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

یاد رہے کہ 27 جون کو نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے کہا تھا کہ خیبر پختون خوا میں 5 نئے پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، اِنڈ پولیو پروگرام کے مطابق رواں سال کے پی کے میں اب تک 32 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

واضح رہے  ملک بھر میں پولیو کا مرض سنگین صورت حال اختیار کر گیا ہے، پاکستان میں رواں برس پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 53 ہو چکی ہے، سب سے زیادہ پولیو کیسز خیبر پختون خواہ میں سامنے آئے۔

مزید پڑھیں : خیبر پختونخواہ میں پولیو وائرس کا پھیلاؤ، وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

پنجاب میں 5 اور سندھ میں 3 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ  بلوچستان سے بھی 4 پولیو کیسز رپورٹ کیے جاچکے ہیں۔

خیال رہے خیبر پختونخواہ کے شہر بنوں میں مفاد پرست تاجروں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے پولیو مہم کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے انسداد پولیو ڈاکٹر بابر بن عطا نے متعلقہ حکام کو تاجروں سے رابطے اور مذاکرات کا ٹاسک دیا، مذاکرات میں بائیکاٹ کا اعلان کرنے والے تاجروں کو جب انسداد پولیو مہم کی حساسیت کے حوالے سے علم ہوا تو ان میں سے بیشتر نے بائیکاٹ کا اعلان واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں