The news is by your side.

Advertisement

قانون کی بالادستی کے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ لوگوں کو امتحان میں ڈالتاہے، رزق، عزت ،زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے،انا کسی بھی انسان کو برباد کرسکتی ہے جبکہ سچا ایمان آپ کو اپنی انا پر کنٹرول کرناسکھاتاہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے امریکی اسلامی اسکالرشیخ حمزہ یوسف کو دئیے گئے مفصل انٹرویو میں کیا، وزیراعظم نے انٹرویو میں اپنی سیاسی جدوجہد اور وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد پاکستان کو ریاست مدینہ طرز پر اسلامی فلاحی ریاست کے اصول پر بھی روشنی ڈالی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ ناکام ہوتے ہیں تو اپنی ذات کا تجزیہ کرتے ہیں، آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، انسان کو کامیابی اور عزت اللہ دیتاہے، اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ لوگوں کو امتحان میں ڈالتاہے، جب آپ دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اللہ کےقریب ہوجاتےہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انا کسی بھی انسان کو برباد کرسکتی ہے جبکہ سچا ایمان آپ کو اپنی انا پر کنٹرول کرناسکھاتا ہے، مال اور دولت نہیں انسان کے اندر غیرت کا ہوناضروری ہے، جو کسی کے سامنے نہیں جھکتے وہ اپنی غیرت کا سودا نہیں کرتے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ میں نے 22سال مسلسل جدوجہد کی ہے جب میں نے سیاست شروع کی تو مافیاز موجود تھے، یہی بات میں نے اپنی سیاسی جماعت کو سمجھانے کی کوشش کی، وہ ڈرتے تھے کہ ہم مافیاز کے ہاتھوں مار کھائیں گے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ سیاست میں آنے کی وجہ میں معاشری ذمہ داری سمجھتاتھا مگر میری تضحیک کیلئے اسکینڈلز اور جعلی خبریں لائی گئیں، طاقت ور لوگوں نے میری کردار کشی کی، مافیازکاخاتمہ اورلوگوں کوغربت سےنکالیں تو ملک اوپر جاسکتاہے۔

امریکی اسلامی اسکالر شیخ حمزہ یوسف کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بناناچاہتاہوں، میں جانتا ہوں کہ نبیﷺ نے جو جدوجہد کی وہ آسان نہیں تھی، میرا یقین ہے کہ جب  آپ دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اللہ کےقریب ہوجاتےہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ لوگوں کو امتحان میں ڈالتاہے۔

اپنے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہر چیز پر اشرافیہ قابض ہے، ہمارے ملک میں طاقتور کیلئے ایک کمزور کیلئے دوسرا قانون ہے، قانون کی بالادستی کے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے، ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں