The news is by your side.

Advertisement

تنقیدسےگھبرانےوالانہیں ہوں،نہ ہی اپنے اہداف پرکوئی سمجھوتہ کروں گا، وزیراعظم

ڈیووس : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تنقیدسےگھبرانےوالانہیں ہوں،نہ ہی اپنے اہداف پرکوئی سمجھوتہ کروں گا،بیمارمعیشت کو اٹھانے کےلئےتکلیف دہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں، ہم ٹیومر نکالنا چاہتے ہیں مگر آپریشن کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بریک فاسٹ میٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا میرا ڈاووس کا یہ دورہ پاکستانی وزیراعظم کے تحت سستا ترین دورہ ہے، دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج کی تقریب منعقد کی ، ڈاووس میں میرے قیام کو اکرام سہگل اور محمد عمران نے اسپانسر کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈاووس میں قیام بہت مہنگا ہے،حکومت پر اخراجات نہیں ڈالناچاہتاتھا، جب کرکٹ شروع کی تو مجھ سے بھی بہتر کھلاڑی میدان میں تھے، وقت کیساتھ میں نے سیکھا،مشکل حالات کاکیسے مقابلہ کیاجائے ، میرے دورمیں مجھ سے بھی اچھے کھلاڑی مشکل حالات میں مایوس ہوجاتےتھے، انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں پرامید رہناہوتاہے،وزیراعظم عمران خان

عمران خان نے کہا کہ نچلے طبقے کیلئےسب سے بڑا مسئلہ تعلیم کےمواقعوں کی عدم فراہمی ہے ، نچلےطبقے کےنوجوانوں کو اوپر لانے کیلئے اپنے علاقے میں نمل یونیورسٹی قائم کی، آج نمل میں نچلے طبقے کےنوجوان بریڈفورڈیونیورسٹی کےطلباکا مقابلہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ مشکل حالات سے سبق سیکھنے کی کوشش کی ، بھارت سے میچ میں شکست پر واپس جاکر ٹیم کا حوصلہ بڑھایا ، بھارت سے شکست کےبعد ایئرپورٹ پہنچے تو کسٹمز نے 2گھنٹےروکے رکھا، والدہ کاکینسر سےانتقال ہوا تو شوکت خانم اسپتال بنانے کا عزم کیا، کینسر اسپتال بنانے سے پہلے مجھے فلاحی کاموں کا خاص تجربہ نہیں تھا، اس کے قیام کیلئے4سال تک مشکلات کا سامنا رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کینسراسپتال کےخواب کےدوران معلوم ہوا کہ یہ کتنا مہنگاعلاج ہے، 700ارب میں اسپتال بنایا اور سالانہ خسارہ ایک ہزار ارب روپےہے ، سیاست میں آنے کا سوچا تو سب نے میرا مذاق اڑایا، تو 15سال تک لوگوں نے میرا مذاق اڑایا ، اچھے لوگ سیاست میں اس لئے نہیں آتے کیونکہ وہ جگ ہنسائی سےڈرتےہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ والدہ کینسر میں مبتلا ہوئی تو معلوم ہوا پاکستان میں کینسر کا اسپتال ہی نہیں، زندگی میں ایک خواب دیکھیں تو واپس پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پاکستان ایسا ملک تھا جس کاصدرامریکاجاتاتوبھرپوراستقبال ہوتاتھا، بدقسمتی سے ہم نے خود کو نیچے کیا ہے ، پاکستان کے نیچے جانے کی بڑی وجہ جمہوری اداروں کا غیرمستحکم ہوناہے، قائداعظم اور علامہ اقبال دنیا کے بہترین لیڈر اور ذہین انسان تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقتدارمیں آنے کے بعد معلوم ہوا پاکستان کے پاس کتنے زیادہ وسائل ہیں، پاکستان میں محنت کش اور نوجوانوں پر مشتمل قوم ہے ، پاکستان کے پاس بےپناہ زراعت،معدنیات،کوئلےکےبڑےذخائر ہیں، ایک بڑا زرعی ملک ہےجو معدنیات اور کوئلے سے مالامال ہے جبکہ لائیو اسٹاک میں پاکستان کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے ۔

عمران خان نے کہا ا س وقت2سیاسی جماعتیں باری باری اقتدارمیں آتی تھیں، انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق ہے، ترقی کرنے کیلئے پہلے آپ کو بڑے خواب دیکھنے ہوتے ہیں، بڑےہدف کوپانےکیلئےآپ کواپنی کشتیاں جلانی پڑتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقی کرنےکی بہت صلاحیت موجود ہے، 60کی دہائی میں ہم نےدیکھاپاکستان ترقی کی دوڑمیں آگےتھا، پاکستان کی ترقی کیلئےبہترنظام حکومت ہوناناگزیر ہے، پاکستان ایک نظریےکےتحت وجودمیں آیا،ہمیں وہ کبھی فراموش نہیں کرناچاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم پاکستان کواسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے پاکستان کےپاس انتہائی باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے، بلوچستان میں ریکوڈک کےمقام پرسونےاورتانبے کی 14کانیں ہیں، صرف 2کانوں کامنافع 100ارب ڈالرسےزائد ہے، پاکستان میں گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں بیٹھےمایوس چہروں کو کہتاہوں فکر نہ کریں میں ہوں ، سخت اصلاحات پرتنقیدسےگھبرانا نہیں ہے، بیمار معیشت کو اٹھانے کیلئے تکلیف دہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں،ہم ٹیومر نکالنا چاہتے ہیں مگر آپریشن کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا بہترین سرمایہ ہیں ، مہاتیر محمد نے محنت کیساتھ ملائیشیا کو ترقی یافتہ بنایا اور پاکستان میں کرپٹ عناصر بحران کاتاثر دےرہےہیں، اداروں میں اصلاحات کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وزارت صحت میں 370میں سےصرف50کےپاس صحت کا تجربہ ہے، پاکستان میں اداروں کا برا حال ہے،کرپٹ عناصر تباہ کردیتے ہیں، ایک دل کےاسپتال موت کی شرح 25فیصد تھی ، اسپتال کے سربراہ کوہٹایا تو وہ اسٹے آرڈر لےکر آگیا ، جب لوگ اسٹے آرڈر لیکر آجاتے ہیں تو حکومت کومشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اخراجات میں کمی خود سے شروع کی ، میرے بیرون ملک اخراجات ماضی کے حکمرانوں سے 10گناکم ہیں، ادارے لمحے میں تباہ ہوجاتے ہیں مگر بنانے میں وقت لگتاہے ، میں تنقیدسےگھبرانےوالانہیں اورنہ ہی اپنے اہداف پر سمجھوتہ کروں گا ، جزا اور سزا کے بغیر کوئی کامیابی نہیں ملتی۔

عمران خان نے کہا کہ گزشتہ 15ماہ میں زندگی کے مشکل ترین حالات دیکھے ، پاکستان کےمعاشی ڈیفالٹ ہونے کاخوف برے خواب کی طرح ہے، حکومت میں آکر فائرفائٹنگ کےعلاوہ معاشی بدحالی کا سامنا رہا، پاکستان کی خوبصورتی کا سوئٹزرلینڈ کی خوبصورتی سے کوئی مقابلہ نہیں۔

وزیراعظم نے مزید بتایا کہ کابینہ کے وزرا کے غیرضروری دوروں پرمکمل پابندی لگائی ہے ، وزرا کو باہرجانے کیلئے قائل کرنا پڑتا ہے کہ ملک کا فائدہ ہوگا، میرےامریکاکےدورےپر 160ہزارڈالر اخراجات آئے تھے، آصف زرداری نے امریکا کےدورے پر1.4ملین ڈالرز، نوازشریف کے دورہ امریکاپر1.3ملین ڈالرزکے اور شاہدخاقان عباسی کےدورہ امریکاپر 800ہزار ڈالر کا اخراجات ہوئے، اندازا لگائیں حکمرانوں نے کس طرح بیرون ملک دوروں پر شاہانہ اخراجات کئے۔

ان کا کہنا تھا کہ شایدیہ مثال سخت ہےمگرملکی حالات ایسےہےجیسے جنت میں جاناچاہتےہیں مگرمرنانہیں چاہتے، میٹنگ میں کابینہ اراکین کے چہرے دیکھ کر سمجھ جاتاہوں یہ سب رات کےٹاک شوز دیکھتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں