The news is by your side.

Advertisement

انشااللہ پاکستان میں ویکسین بنانے سے متعلق خوشخبری دیں گے، وزیراعظم کی عوام سے براہ راست گفتگو

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے عوام سے عید پر ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہماری بات چیت جاری ہے کہ پاکستان کے اندر ویکسین بنائی جائے ، انشااللہ پاکستان میں ویکسین بنانے سے متعلق خوشخبری دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا کوروناکی پہلی اور دوسری لہر میں قوم نے پوری طرح تعاون کیا، پاکستان خوش قسمت ہے جو اچھی طریقے سے پہلی ،دوسری لہر سے نکلا،اللہ کا کرم ہے کہ ہم نے دونوں طرف سے لوگوں کو بچایا۔

بھارت میں کورونا صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 22کروڑ لوگ بھارت میں غربت کی لکیر سے نیچے گئے ،بھارت کے حالات تیسری لہر میں سب کے سامنے ہیں ، بھارت کے اسپتالوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ، وہاں لوگ سڑکوں پرمررہےہیں،اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کاسامناہے۔

عوام اپنے آپ کو بچائیں تاکہ ہمیں لاک ڈاؤن نہ کرناپڑے


عمران خان نے کہا کہ بنگلا دیش ، نیپال میں بھی کوروناکے کیسز بڑھ رہےہیں، عوام سے گزارش ہے عید کی چھٹیوں میں اپنے بڑوں کا خیال رکھیں ، جتنا ہم احتیاط کریں گے ہم اس عذاب سے نکل جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پمزکےڈاکٹرزنے بتایاکوروناکے کیسز اب تیزی سے اوپر نہیں جارہے، سب سے اہم ایس اوپیز ماسک کا استعمال ہے ، عوام عید کی چھٹیوں میں ضرور ماسک پہنیں اور ایس اوپیز پرعمل کرکے عوام اپنے پیاروں اور قوم کو بچائیں ، عوام اپنے آپ کو بچائیں تاکہ ہمیں لاک ڈاؤن نہ کرناپڑے، ایس اوپیزپرعمل کرینگے توانشااللہ تیسری لہرسے بھی نکل جائیں گے۔

دنیا کی تاریخ میں جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی لیکر آئی تھی


طاقت کی حکمرانی سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 25سال پہلے بنائی تھی ، میرے پاس اتنا پیسہ تھا کہ کچھ نہ کرتا تو زندگی گزار سکتا تھا، پاکستان میری عمر سے تقریباً5سال بڑاہے، دنیا کی تاریخ میں جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی لیکر آئی تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک انسانی قانون ہے اوردوسرا جانوروں کاقانون ہے ، انسانی معاشرے میں قانون کامطلب ہے کمزورکو طاقتورسےتحفظ دینا، ریاست مدینہ کی بات کروں تو سمجھتے ہیں سوئچ آن ہوگیا دودھ کی نہریں بہنے لگیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ قوم تباہ تب ہوتی ہے جب انصاف دینے کی اخلاقی جرات ختم ہو جائے، جو سائیکل بھینس چوری کرتاہے اس سے ملک تباہ نہیں ہوتے ، ملک تباہ تب ہوتاہے جب حکمران پیسہ لوٹ کرباہربھجواتے ہیں ، ہر غریب ملک کا مسئلہ ہے جہاں طاقتور پیسہ چرا کر باہر لےجاتے ہیں، یک ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں سے ہرسال چوری ہوکر باہرجاتاہے، غریب ملک مقروض اور امیر امیر ہوتے جارہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جسٹس منیر کے فیصلے سے قانون کی حکمرانی کے بجائے طاقت کی حکمرانی آئی، نوازشریف نے ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ، جج سجاد علی شاہ جان بچاکر بھاگا، چیف جسٹس کو باہر نکالنے کےلئے باقی ججز کو پیسے دیئے گئے ، جنرل پرویزمشرف نے چیف جسٹس کو باہرنکالا۔

ہماری حکومت نیب میں کوئی مداخلت نہیں کرتی کیونکہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں


وزیراعظم نے کہا کہ میں وہ لیڈر تھا جسے جیل میں ڈالا گیا باقی دو لیڈر تو باہر بھاگ گئے تھے ، ہماری حکومت نیب میں کوئی مداخلت نہیں کرتی کیونکہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، طاقتور کو قانون کے نیچے لانے کو میں جہاد سمجھتاہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ مافیازکامطلب ہے یہ وہ لوگ ہیں جوکرپٹ نظام سے فائدہ اٹھارہاہے ، یہ جو مافیا بیٹھا ہے وہ نہیں چاہےگاکہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو، شوگرمافیا بھی نہیں چاہے گا، ادارے کام کرے یہ بھی کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ انصاف کی جدوجہد لڑنے کیلئےتحریک انصاف بنائی تھی ، ہم کامیاب ہورہے ہیں ، اسٹیٹس کو اور مافیاز سے لڑرہےہیں ، قوم نےمیرے ساتھ کھڑے ہونا ہے ،اللہ نے مجھے لڑنے کی ٹریننگ دی ہے ، میں ان مافیاز سے لڑ کر اور جیت کر دکھاؤں گا۔

مغربی ممالک نے بھارت کو مضبوط طاقت بنانے کا فیصلہ کیا


ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو چین کی تیز رفتاری سے خوف ہے ، مغربی ممالک نے بھارت کو مضبوط طاقت بنانے کا فیصلہ کیا ہے، ہندوستان چین کیخلاف کھڑا ہوا تو یہ احمقانہ ہوگاکیونکہ اپنی تباہی کرےگا، مغربی ممالک کو خوف ہے کہ چین ان سے آگے نکل جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالےسے دنیا میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ، بدقسمتی سے مغربی ممالک کشمیریوں کیساتھ اس طرح نہیں کھڑا جتنا ظلم ہورہاہے، جب تک 5 اگست کی صورتحال واپس نہیں ہوتی بھارت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

قونصلر سروسز اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملات ٹھیک کرنے ہیں


سفارتخانوں کے حوالے سے ایک اوورسیز کی شکایت پر جواب دیتے ہوئے کہا وزیراعظم نے ہمارے سفارتخانے اور وزارت خارجہ نے بہت اچھا کام کیا ہے ، سفارتخانوں،وزارت خارجہ نے کشمیر کاز کو زبردست انداز میں اٹھایا ہے، پروگرام لائیو نہیں جانا چاہیے تھا اس کے کچھ حصے جانےچاہئیے تھے، ایسا لگا جیسے میں سارے سفارتخانوں کو برا بھلا کہہ رہاہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی متعلقہ سفارتخانے جاکر شکایت درج کراسکتےہیں، وزیرخارجہ کی زیرنگرانی کمیٹی ،سٹیزن پورٹل پر بھی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے ، قونصلر سروسز اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملات ٹھیک کرنے ہیں۔

اوورسیز پاکستانی متعلقہ سفارتخانے جاکر شکایت درج کراسکتےہیں


پانی کے مسئلے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ سارے بڑے شہروں میں آنیوالا ہے جبکہ کراچی میں آچکا، لاہور میں راوی سٹی نہ بنایا تو یہاں بھی پانی کا مسئلہ شروع ہوجائے گا، شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں ، جس سے سیوریج اور پانی کے مسئلے بڑھ رہےہیں، سارے شہروں کے ماسٹر پلان بنائےجارہےہیں، اسلام آباد میں پانی لانے کیلئے پوری پلاننگ کرلی گئی ہے۔

انشااللہ آنیوالےدنوں میں گھرخریدنےوالوں کیلئے آسانیاں ہوں گی


ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلی بار ان لوگوں کیلئے گھربنانے کی کوشش ہورہی ہے جن کے پاس اتنا کیش نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو بینک گھر بنانے کیلئے قرض کی شکل میں پیسہ دیتے ہیں، جو رقم کرایے پر جاتی ہے وہ پھر ان کے گھر کی قسطوں میں چلاجاتاہے، پاکستان میں پہلی بار لوگوں کو گھروں کیلئے قرض دیئےجارہےہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 0.2فیصد لوگوں کو بینکس قرضے دیتے ہیں جبکہ بھارت میں 10فیصد لوگ بینکوں سے قرضہ لیکرگھر بناتےہیں ، شوکت ترین ایک خاص بینک بنانےکےکام میں لگے ہوئے ہیں، خاص بینک کاصرف کام یہی ہوگاکہ وہ گھروں کیلئےقرض فراہم کرے، انشااللہ آنیوالےدنوں میں گھرخریدنےوالوں کیلئے آسانیاں ہوں گی، بینک سستے قرضے دےرہےہیں حکومت تین لاکھ سبسڈی بھی دےرہی ہے۔

انشااللہ پاکستان میں ویکسین بنانے سے متعلق خوشخبری دینگے


پاکستان میں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہماری بات چیت جاری ہے کہ پاکستان کے اندر ویکسین بنائی جائے ، انشااللہ پاکستان میں ویکسین بنانے سے متعلق خوشخبری دیں گے۔

وزرا اچھا کام نہیں کرینگے تو ٹیم بدلنی پڑے گی


وزرا کی کارکردگی سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیم میں 11کھلاڑی ہوتے ہیں سب سپر اسٹار نہیں ہوتے، جو اچھا کام کرتا ہے وہ سب کےسامنے آجاتاہے، ہمارے وزرا زبردست کام کررہےہیں ، وزرا اچھا کام نہیں کرینگے تو ٹیم بدلنی پڑے گی۔

ہم نے بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈالا ہے


عمران خان نے قبضہ گروپوں کیخلاف کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ ہم نے بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈالا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاور میں رہتے ہوئے زمینوں پر قبضہ کررکھاتھا، سابقہ وزیر ،ایم این ایز سمجھتے ہیں ہم نے غلط کارروائی کی تو عدالت جاسکتے ہیں ، قبضہ گروپوں سےہم نے ابتک 21ہزارایکڑ زمین واگزار کرائی اور اب تک 27ارب روپے کی زمین واگزارکرائی جاچکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قبضہ گروپوں کیخلاف میں نے جنگ شروع کررکھی ہے، کسی کی زمین پر قبضہ ہو تو پورٹل پر شکایت درج کرائیں کارروائی ہوگی، کئی سابقہ ایم پی ایز،ایم این ایز نے زمینوں پر قبضہ کیا تھا، مریم نواز قبضےکرنیوالی ایک رکن اسمبلی کیساتھ کھڑی ہوئی تھی ، جوانتقامی کارروائی کا شور کررہےہیں وہ عدالت کیوں نہیں جاتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ سے متعلق بھی اصلاحات کی جارہی ہے ، کوشش ہے کہ زمینوں کا کیس ایک سال میں حل ہوجائے ،ماضی میں وزرا سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے تھے۔

چند ماہ میں تمام بارڈر مارکیٹس کھل جائیں گی


عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں پر سرحد نہ ہونے پر اسمگلنگ ہوتی تھی ، جب سے باڑ لگائی ہے تو انھیں مشکلات کاسامنا ہے ،اسمگلنگ رک گئی ہے، جوصدیوں سے اسمگلنگ میں لگے تھے وہ اسے تجارت کہتے تھے، چند ماہ میں تمام بارڈر مارکیٹس کھل جائیں گی، ایران سے پیٹرول اسمگلنگ سےپاکستان کو 180ارب کا نقصان ہورہاہے، بلوچستان میں ابھی بھی ایران سے سے پیٹرول آرہاہے، بلوچستان سے باہر ایرانی پیٹرول روک دیا گیا ہے۔

سندھ اور کراچی کے لئے پیکج تیار کررکھا ہے


اٹھاویں ترمیم سے متعلق انھوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 57فیصد پیسہ صوبوں کو چلا جاتاہے ، 18ویں ترمیم کےذریعے اختیارات صوبوں کو چلے گئے ، فوڈسیکیورٹی موجود ہے مگر گندم کی ریلیز اورقیمت کااختیار صوبوں کو ہے، پنجاب اور سندھ میں بکنےوالی گندم میں 400روپے کا فرق تھا ، ہم سندھ کو گندم ریلیز کا کہتے رہے کیونکہ ان کے پاس سرپلس گندم ہے، پنجاب نے گندم ریلیزکی تو قیمت 850روپے پر آگئی ، سندھ نے گندم ریلیز نہیں کی تو قیمت 1200روپے پر پہنچ گئی ، قیمتیں نیچے رکھنےکیلئےگندم ریلیز کا اختیار پھر وفاق کے پاس ہوناچاہیے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے سندھ اور کراچی کے لئے پیکج تیار کررکھا ہے ، وفاقی حکومت صوبوں کو پیسے دےچکی ہے ، کراچی پیکج آرہا ہے اس کیلئے وفاق صوبےکو اضافی پیسہ دے رہاہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں این آراو نہیں دوں گا، ایک ہوتا ہے بڑا ڈاکو اور ایک چھوٹا چور ہوتاہے، چھوٹا چور گائے بھینس ، موبائل ،موٹرسائیکل چوری کرتاہے لوگ تنگ ہوتے ہیں، جب حکمران ،وزیراعظم چوری کرتا ہے تو ملک کو مقروض ہوجاتاہے۔

شہبازشریف پر صرف منی لانڈرنگ کا کیس نہیں پوری کتاب ہے


شہبازشریف کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ شہبازشریف باہر جانے کی نہیں بھاگنے کی کوشش کررہاہے ، شہبازشریف پر صرف منی لانڈرنگ کا کیس نہیں پوری کتاب ہے ، ان کا پیسہ باہر ہے جب بیگم،بیٹےکو گھر لیناہوتا تو پیسہ باہرسے آجاتاہے، انکےبچے اربوں کے گھروں میں رہتےہیں وہ پیسہ چوری ہوکر باہرگیا،مشرف نے زرداری اور نوازشریف کو این آراو دیا جس سے ملک کانقصان ہوا، مجھے ووٹ نہ ملنے کا خوف نہیں بلکہ میرے اندر خوف خدا ہے۔

جہانگیر ترین کو واضح کہا ہے کہ میں نے کبھی ناانصافی نہیں کی


جہانگیر ترین سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ ان کےساتھ ناانصاف ہوئی ہے ، جہانگیر ترین کو واضح کہا ہے کہ میں نے کبھی ناانصافی نہیں کی ،وہ میری پارٹی میں ہیں تو ان سے ناانصافی کیسے کروں گا، چینی مہنگی کرکے غریب کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے ، حکومت چلی جائےتوبھی چینی مہنگی کرنیوالوں کو کبھی این آر اونہیں ملےگا۔

شوگرملز مافیا کے حوالے سے عمران خان نے کہا ایک روپیہ چینی مہنگی ہو تو 5ارب عوام کی جیبوں سےنکل کرشوگرملزکوچلاجاتاہے، شوگرملوں نے 22ارب روپے ٹیکس دیا جس پرریفنڈ 12ارب روپے بھی لیا، 5سال میں انکو 29ارب روپے کی سبسڈی بھی دی گئی ، شریفوں اور زرداری کی شوگرملیں ہیں ، یہ ٹیکس نہیں دیتے ، شوگر مافیازکیساتھ رعایت نہیں ہوگی مگر ناانصافی کسی سے نہیں ہوگی، چینی کی قیمتوں کا تعین حکومت کو کرنا چاہیے۔

شوکت ترین کو لانے کی وجہ


ان کا مزید کہنا تھا کہ شوکت ترین کو صرف دو وجہ سے لیکر آیا ہوں ، شوکت ترین قیمتوں میں کمی لائیں اور گروتھ ریٹ میں اضافہ کریں ، مجھے سب سے زیادہ جو چیز تنگ کرتی ہے وہ ہے مہنگائی، پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتاہے، دیگرممالک کی نسبت سب سے سستا پیٹرول آج پاکستان میں ہے۔

مجھے سب سے زیادہ جو چیز تنگ کرتی ہے وہ ہے مہنگائی


مہنگائی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں بجلی اور گیس کی قیمتیں 64فیصد اوپر گئی ہیں ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں 29.4فیصد بڑھی ہیں، کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کا اثر مہنگائی کی شکل میں نظرآیا ہے، بجلی کی قیمتیں اوپر جانےسے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوتاہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی کے کنٹریکٹ ہماری حکومت کے آنےسے سے پہلے کے ہیں ، آئی پی پیز کیساتھ کنٹریکٹ 30،30سال پرانے ہیں ، قطر سے گیس کا کنٹریکٹ بھی ہماری حکومت سے پہلے کیاگیا، کپیسٹی پےمنٹ کامطلب ہے بجلی استعمال کریں یا نہ کریں پیسے پورےدینے ہیں، ن لیگ حکومت میں کپیسٹی پےمنٹ 2013میں 180ارب روپے تھا، جب ہماری حکومت آئی تو کپیسٹی پے منٹ 2018میں 400ارب روپے ہوگئی ، کپیسٹی پےمنٹ 2023میں 1455ارب روپے پر پہنچ جائےگی۔

اسرائیلی بربریت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا اسرائیل نے27ویں شب پرفلسطینیوں پرظلم کیا اس کی مذمت کی، شاہ محمودکوسعودی عرب،ترک وزیرخارجہ سےبات کرنےکاکہا، اسلاموفوبیاکی مہم پرسعودی فرمانرواسےخودبات کی ہے، کوشش کررہےہیں کہ مسلم ممالک متحدہوکرآوازاٹھائیں، سب سے پہلے مسلم ممالک ملکر اسرائیل کی جارحیت پر آواز اٹھائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں