اگلے سال تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل ہوجائے گی: وزیر اعظم -
The news is by your side.

Advertisement

اگلے سال تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل ہوجائے گی: وزیر اعظم

مظفر آباد: وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگلے سال کے اوائل تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل ہوگی۔ 70 سال میں اتنی بجلی سسٹم میں شامل نہیں کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مظفر آباد آزاد کشمیر میں نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ کے دورے اور سرنگوں کی تکمیل سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔

انہوں نے کہا کہ پہاڑوں کے نیچے سرنگیں بنانا ایک عجوبہ ہے۔ نیلم جہلم منصوبہ تعطل کا شکار تھا۔ لگتا تھا 20 سال میں بھی مکمل نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نے مخالفین کو سخت سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی بے پناہ قلت تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ قوم کواس عذاب میں کس نے مبتلا کیا۔

مخالفین پر وار

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ روز ٹی وی پر آتے اور گالیاں دیتے ہیں۔ قوم کو عذاب میں مبتلا کرنے والے احتجاج کی بات کر رہے ہیں۔ روز گالیاں دینا اور الزام تراشی کرنا ان کا شیوہ بن چکا ہے۔

نواز شریف نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ایجنڈا اور منشور ہی گالیاں دینا اور الزام تراشی ہے۔ ’اگر آپ بد زبانی پر مجبور ہیں تو اپنا شوق پورا کرتے رہیں، مگر منصوبوں میں رکاوٹ نہ ڈالیں‘۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مخالفین نے گندی زبان استعمال کی، لیکن ہم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم اپنے کام میں مصروف رہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے برس کے اوائل تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل ہوگی۔ ان کے مطابق 70 سال میں اتنی بجلی سسٹم میں شامل کی گئی جتنی ہم نے اپنی ایک حکومت میں کردی۔

وزیر اعظم نے کہا، ’ماضی میں اسیکنڈلز کی بھر مار تھی، کیا ہمارے دور میں ایک بھی اسکینڈل آیا‘؟ انہوں نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ 10 ماہ تاخیر کا شکار ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں شیر ایک بار پھر کبوتر کو اڑا کر لے جائے گا۔

یاد رہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پرجیکٹ کا 92 فیصد تعمیری کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کا پہلا یونٹ اگلے سال فروری کے اختتام تک بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔

پروجیکٹ کا دوسرا یونٹ مارچ کے مہینے میں بجلی بنانا شروع کر دے گا جبکہ تیسرے اور چوتھے یونٹ کو اس سے اگلے سال اپریل تک مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد یہ بھی فعال ہوجائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں