The news is by your side.

Advertisement

سال 2018 لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال ہوگا،وزیر اعظم

فیصل آباد : وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کول پاور پلانٹ کا افتتاح کرکے خوشی محسوس کررہا ہے، سال 2018 لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال ہوگا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے فیصل آباد میں کول پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کول پاور پلانٹ کا افتتاح کرکے خوشی محسوس کررہا ہوں، پاکستان میں سرمایہ کاری میں بہتری دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، پاکستان ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں دو تین سال پہلے نہ انڈسٹری کئلے بجلی تھی نہ گھریلو صارفین کیلئے اور نہ ہی کاشتکاروں کیلئے ، ہر طرف لوگ بجلی کو ترستے تھے آپ کو یاد ہے کہ فیصل آباد میں لوڈ شیڈنگ کے احتجاج ہوتے تھے۔

پچھلے ڈھائی تین سالوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے، اللہ کا بڑا کرم ہے کہ مختصر عرصے میں بجلی بحران پر قابو پایا جارہا ہے،2017 میں مزید صورتحال بہتر ہوگی اور سال 2018 لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا سال ہوگا ۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمارا مقصد بجلی کی قلت دور کرنا نہیں بلکہ اسے سستا کرنا بھی ہے، ماضی میں ہر طرف بجلی کا فقدان تھا ،
سن 2013 سے پہلے بجلی کیلئے مظاہرے ہوتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم بجلی کے معاملات کو ٹھیک کررہے ہیں، ایک طرف انفرااسٹرکچر کو ٹھیک کررہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ ملک بھر میں موٹر وے کا جال بھجیا جارہا ہے، بلوچستان کے چپے چپے میں موٹرویز اور ہائی ویز بن رہے ہیں، بجلی کے کارخانے درجنوں جگہوں پر بن رہے ہیں، پینے کا صاف پانی،صحت اورتعلیم کی سہولت مہیا کرنا ہما ری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انکا کہنا تھا کہ کراچی اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، کراچی معاشی حب ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خسارے کے شکار قومی اداروں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کریں گے ،پی آئی اے سمیت دیگراداروں کی بہتری کیلئے کام کررہے ہیں، نئے طیارے خریدے جائیں گے جو پاکستان بھر سے چلیں گے، 1999 میں پاکستان جنوبی ایشیا مین سب سے آگے تھا۔

انھوں نے کہا کہ دشمن ابھی بھی چھوٹا موٹا حملہ کرتا رہتا ہے، گزشتہ روز مردان میں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک تھا، دہشتگرد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنارہے ہیں لیکن یہ سلسلہ جلد ختم ہوجائے گا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج نے جانوں کانذرانہ پیش کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر وے کا افتتاح 1998ہوا تھا، اس کے بعد سے موٹر وے وہیں کھڑی ہے جہاں ہم چھوڑ کر گئے تھے، کسی حکومت نے اسے آگے نہیں بڑھایا، اس موٹر وے کو کراچی جانا تھا بلکہ گوادر تک جانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ زائد بلوں کے باعث پریشان ہوجاتے ہیں، بجلی کے زائد بل کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے موبائل میٹرنگ کی تجویز پر غور کررہے ہیں یہ اچھی تجویز ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں