site
stats
اہم ترین

انشاءاللہ2018تک تمام وعدے پورے کریں گے‘وزیراعظم نوازشریف

کراچی:وزیراعظم نواز شریف کاکہناہےکہ 2013میں عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو سال2018تک پورا کریں گے۔

تفصیلات کےمطابق نوری آباد کے مقام پرایم نائن موٹرے کی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ منصوبے کا 60 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ تعمیر وطن کے سفر میں آج ایک نیاسنگ میل عبور کرنے جارہے ہیں،کراچی حیدر آباد موٹر وے کا افتتاح بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج لوگ اپنی آنکھوں سے ایک نیا پاکستان تعمیر ہوتا دیکھ رہے ہیں،موٹر وے اور میٹرو اب خیالی باتیں نہیں رہیں،ہم نے اس خواب کو تعبیر دی ہے، یہ وہ وعدے ہیں جوہم نے 2013 میں کیے تھے جن کو پورا کررہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نےکہاکہ ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے مفاد کے لیے کبھی مذہب اور کبھی سیاست کے نام پر نوجوانوں میں ہیجان پیدا کرتے ہیں۔یہ لوگ نوجوانوں اور قوم سے مخلص نہیں ہیں لہذا ہمیں اپنی نئی نسل کو ایسے لوگوں سے بچانا ہے۔

انہوں نےکہا پاکستان میں عالمی معیار کی موٹروے بن رہی ہے، دوسری جانب ملتان سکھر موٹروے کا کام بھی شروع ہوچکا ہے جبکہ سی پیک سے ہزاروں لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔

ایم نائن منصوبے کی تقریب سے خطاب کےدوران انہوں نےاس یقین کا اظہار بھی کیا کہ 2019 تک کراچی تا پشاور 6 رویہ موٹر وے مکمل ہوجائے ہوگی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چارٹرطیاروں پر سفر کرنے والے سڑکوں کی ضرورت نہیں، ہیلی کاپٹر میں سیر کرنے والے زمین پر اتر کردیکھیں کہ سڑکوں کی کیا اہمیت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعمیر ایک وژن کا تقاضا کرتی ہے، قوم کی تعمیر کھیل نہیں اس کے لیے وژن، جذبہ اور عوام سے محبت ضروری ہے اور اسی کے تحت ہم نے3 سال پہلے تعمیر پاکستان کے سفر کا آغاز کیا تھا۔

ملک میں بجلی کی کمی اور لوڈ شیڈنگ کے حوالے سےان کا کہنا تھا کہ اگلے سال کے شروع تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائےگی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم ترقی پر توجہ دے رہے ہیں دھرنوں کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے،وہ کرتے رہیں دھرنے ہم اپنے کام کو کرتے رہیں گے۔

انہوں نےکہاکہ لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ کون دھرنے والے ہیں اور کون ترقی والے،ہمارا ایجنڈا ترقی اور خوشحالی ہے اس میں ہم کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ضرورتیں زیادہ اور وسائل کم ہیں لیکن گذشتہ تین سال کے دوران وسائل کا اضافہ ہوا ہےجسے ہم عوام کی فلاح پر صرف کررہے ہیں۔

کراچی تا حیدرآباد جانے والے اس 136 کلومیٹر طویل موٹروے کے 75 کلومیٹر سیکشن کے چار انٹرچینج ہیں جن میں دادا بھائی، انڈسٹریل ویلی، نوری آباد اور تھانو بولاخان انٹرچینج شامل ہیں۔

خیال رہےکہ ان انٹرچینجز سے کیرتھرنیشنل پارک جھمپیر، کینجھرجھیل اور تھانو احمد خان سمیت مختلف علاقوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

یاد رہے کہ کراچی حیدرآباد موٹر وے منصوبے کا آغاز پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مارچ 2015 میں شروع کیا گیا تھا جس کا بقیہ کام مارچ 2018 تک 36 ارب روپے میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

واضح رہےکہ ایم نائن موٹروے کے افتتاح کے لیے وزیراعظم دارالحکومت اسلام آباد سے آج صبح کراچی ایئرپورٹ پہنچے جہاں نئے گورنر سندھ محمد زبیر اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےان کا استقبال کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top