The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کا لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اینکر پرسنز سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے وسائل کے مطابق ہی فیصلے کر رہے ہیں، کرونا کے خلاف جنگ متحد ہوکر جیت سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاثر دیاگیا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کیا ہو رہا ہے، پاکستان نے کبھی اس قسم کی وبا کاسامنا نہیں کیا،عالمی سطح پر کرونا کی وبا آئی تو فوری نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی بنائی،فوری طور پراسکول بند،پی ایس ایل میچز کو مؤخر کیا۔انہوں نے کہا کہ شروع سے کہہ رہا تھا فوری لاک ڈاؤن پر گئے تو نچلے طبقے کو مشکلات ہوں گی، میں نے کہا نچلے طبقے پر کوئی اسٹرکچر بنانے تک مکمل لاک ڈاؤن پر نہیں جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اجلاس میں فیصلہ کیا کہ گڈز ٹرانسپورٹ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی، اشیائے خوردونوش کی ملک بھر میں فراوانی نہیں روکی جائےگی، صوبوں کے درمیان اشیائے خوردونوش کی ٹرانسپورٹیشن پر پابندی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا کھانے پینے کی اشیا بنانے والی فیکٹریوں پر پابندی نہیں ہوگی،ایک طریقہ کار کے مطابق ایسی فیکٹریوں کو چلانے کی اجازت ہوگی، ہماری کوشش ہے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی جاری رہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش کر رہے ہیں کروناوائرس مزید نہ پھیلے، دوسری طرف ہماری کوشش ہے ایسا نہ ہو لوگ بھوک سے مر رہے ہوں، مسافر ٹرانسپورٹ پر پابندی ہے، اشیائے خوردونوش کی ٹرانسپورٹیشن پر پابندی نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے چین سے ایک بھی کرونا کا مریض پاکستان نہیں آیا،پاکستان میں70فیصد کرونا کیسز ایران سے آئے ہیں، ایران پر پابندیاں ہیں ان کے اپنے حالات بہت برے ہیں، ایران کروناوائرس کی وبا پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہو رہا ہے،ایران نے اپنے حالات کی وجہ سے پاکستانیوں کو بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ تفتان میں قرنطینہ کے مسائل ہوئے، ہمیں اب آگے بڑھنا ہے، ہم اپنی پوری تیاری کر رہے ہیں،کرونا پر قابو کی کوشش کر رہے ہیں، لاک ڈاؤن ہوچکا ہے، ہمیں نہیں معلوم 2 ہفتے بعد ہوگی۔

عمران خان نے کہا کہ چین نے لاک ڈاؤن کیا تو انہوں نے لوگوں کوگھروں پر کھانا پہنچایا،پاکستان میں وہ انفرا اسٹرکچر نہیں کہ لوگوں کےگھروں میں کھانا پہنچائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نوجوانوں کی ایک رضا کار فورس بنا رہے ہیں، سٹیزن پورٹل کے ذریعے لوگ اپنی رجسٹریشن کریں گے،31 مارچ سے نوجوان سٹیزن پورٹل پر اپنی رجسٹریشن کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف جنگ میں ہمیں نوجوانوں کی ضرورت پڑے گی، یوتھ فورس کے ذریعے لوگوں کےگھروں میں کھانا پہنچائیں گے، جن علاقوں میں کرونا کیسز بڑھیں گے وہاں نوجوان کھانا پہنچائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کروناوائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فنڈ قائم کر رہا ہوں، مستحقین کو احساس پروگرام کے ذریعے براہ راست رقم ملےگی،کرونا ریلیف فنڈ کے ذریعے بھی مستحقین کو رقم دی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں وہ ملک ہے جہاں لوگ سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں، نوجوان رضا کاروں کی فورس کا نام کرونا ریلیف یوتھ ٹائیگر فورس ہوگا، خیراتی کام کرنے والوں کی رجسٹریشن کر کے انہیں علاقے دیے جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی ہے، پوری دنیامیں برآمدات گر رہی ہے، پاکستان کی ایکسپورٹ بھی بڑھ رہی تھیں لیکن اب متاثر ہو رہی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی کرونا وائرس کی وبا کا اثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اسٹیٹ بینک میں اکاؤنٹ بنائیں گے جس میں اوورسیز پاکستانی رقم بھیجیں گے،اوورسیز پاکستان زیادہ سے زیادہ رقم بھیجیں گے تو ہماری معیشت کو سہارا ملےگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی کمی نہیں، ٹرانسپورٹیشن کی وجہ سےمسائل ہوئے، ہمیں سب سے زیادہ خطرہ خوف میں آکر غلط فیصلے کرنے سے ہے، لوگوں نےگھبرا کر ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فنڈ قائم کر رہا ہوں جس کے ذریعے بھی مستحقین کو رقم دی جائےگی۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں