The news is by your side.

Advertisement

اگر پارٹی کہے گی، تو اسمبلی تحلیل کردوں‌ گا: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر پارٹی اسمبلی تحلیل کرنے کا کہے گی، تو وہ اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔ البتہ دبائو قبول نہیں کریں گے۔

وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارامقصد امریکا سے تعلقات توڑنا نہیں، بات چیت کا عمل ہر سطح‌ پر جاری ہے، البتہ ہم ملک کے دفاع کے پابند ہیں، اگر ڈرون حملہ ہوا تو بھرپور ایکشن لیں گے۔

انھوں‌ نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو تنخواہ نوازشریف نے لی ہی نہیں، اس پرفیصلہ سنایا گیا، پاناما سے کیس شروع ہوا اوراقامے پرختم کیا گیا۔

انقلاب یا تبدیلی باتوں سے نہیں اقدامات سے آتی ہے: وزیر اعظم

وزیر اعظم کا  کہنا تھا کہ ایک دن میں فاٹا انضمام پرفیصلہ ہونا ممکن نہیں، ہمیں فاٹا کےعوام کو وہی معیار زندگی اور ترقی دینی ہے، جو باقی صوبوں میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے 30 لاکھ افغانوں کو پناہ دی، ہرممکن مدد کی، اس کے باوجود ہماری فورسز پر افغان سرحد سے حملے ہو رہے ہیں، جنگ سے افغانستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بھارت ہمارے لیے نیک مقاصد نہیں رکھتا، پہلے دن سے بھارت سی پیک کےخلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے، چین گوادر کوعسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا خواہش مند نہیں.

سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں عدالتوں میں نہیں: وزیر اعظم

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بہ طور وزیر اعظم اختیارات ان کے پاس ہیں، فیصلے وفاقی کابینہ میں ہوتے ہیں، نواز شریف اختیارات سونپ کرنتائج مانگتے ہیں، دبائو قبول نہیں، لیکن اگر پارٹی اسمبلی تحلیل کرنے کا کہے، تو کردوں گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات کو کوئی خطرہ نہیں، تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ جمہوریت کا سفرچلتا رہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں