The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختونخوا میں سستے آٹے کیلیے کپڑے بیچنا پڑیں گے؟

وزیراعظم شہباز شریف کے کے پی میں سستے آٹے کی فراہمی کیلیے اپنے کپڑے بھی بیچ دینے کے بیان پر صوبائی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ اب سمجھ آیا کہ انہیں شوباز شریف کیوں کہتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کی شام کے پی کے علاقے بشام میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی خوبیاں گنوائیں اور پھر وزیراعلیٰ کے پی کو ہدایت کی کہ وہ اسپتالوں میں علاج اور ادویات مفت اور صوبے میں آٹا سستا کریں۔

اس موقع پر وہ انتہائی جذباتی ہوگئے اور جذبات کی رو میں بہتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر وزیراعلیٰ کے پی عوام کو سستا آٹا فراہم نہیں کرینگے تو میں اپنے کپڑے بیچ کر بھی انہیں سستا آٹا دونگا اور کے پی کے مسائل حل کرنے کیلیے اپنی جان لڑا دوں گا۔

وزیراعظم کے اس بیان پر کے پی کے وزیر خزانہ تیمور ظفر جھگڑا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہبازشریف کی آٹے سے متعلق بات پر ہنسی آرہی ہے، اب سمجھ میں آرہا ہے انہیں شوباز کیوں کہا جاتا ہے۔

تیمور ظفر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2 ماہ قبل ہی وزیراعلیٰ کے پی نے آٹے کی قیمت کم کرکے 800 کردی تھی، امپورٹڈ حکومت آنے سے قبل ہی کے پی میں آٹا 800 روپے کا تھا اور رمضان کے دوران صوبے بھر میں اسی قیمت پر فروخت ہوا لیکن یہ ثابت کرتے ہیں کہ انہیں پنجاب کی چند سیٹوں کے سوا ملک کا پتہ نہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آٹے کی قیمت کم کرکے درحقیقت شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نقل کی۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا کے پی حکومت آٹے کی افغانستان اسمگلنگ بند کرے لیکن بارڈر ایریاز تو کسٹمز اور دیگر وفاقی اداروں کی ذمے داری ہے، ضروری نہیں ہے کہ جب بھی آپ آئیں تو پختونوں کواسمگلنگ سےجوڑیں۔

تیمور ظفر نے مزید کہا کہ جب آپ بجلی، پیٹرول کی قیمت کنٹرول نہیں کرسکتے تو حکومت میں کیوں ہیں؟ آپ الیکشن کرا دیں جس نےآنا ہے وہ مینڈیٹ کے ساتھ آئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں