ملک کےتمام ادارےایک کشتی میں سوارکشتی ڈوب جائیں توسب کا نقصان ہے،شاہدخاقان عباسی shahid-khaqaan
The news is by your side.

Advertisement

تمام ادارے ایک کشتی کے سوار ہیں،کشتی ڈوب جائے توسب کا نقصان ہے،شاہدخاقان عباسی

اسلام آباد : نو منتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کے تمام ادارے ایک کشتی میں سوار ہے اور اگر کشتی میں سوراخ ہوجائے تو پوری کشتی الٹ جاتی ہے۔

وہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے ووٹ دینے پراتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کا بھی شکرگذار ہوں جو گالی گلوچ میں ہمیں یاد رکھتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا جس کی کوئی نظیرنہیں تھی اس کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے کومن وعن قبول کیا تاہم پاکستان کی عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کوقبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف نےعہدہ چھوڑ دیا لیکن پارٹی میں کوئی درارڑ نہیں پڑی اور کوئی ایم این اے کہیں نہیں گیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نوازشریف نے جس کا نام لیا وہ آج آپ کے سامنے ہے کیوں کہ وزیراعظم کی کرسی کو میراث سمجھتی ہے مسلم لیگ (ن) کی کامیابی ہے یہ کرسی آج بھی ہمارے پاس ہے۔

انہوں نے نواز شریف کو عوام کا وزیراعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ گواہ ہیں کہ نوازشریف پرکوئی کرپشن کا چارج نہیں ہے اور اپوزیشن بھی گواہی دے گی کہ نوازشریف نے کرپشن نہیں کی۔

شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نعرے لگانے سے کچھ نہیں ہوگا اس سے بہتر میں کرسکتا ہوں لیکن ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی ہے۔

نو منتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 30 سال سےنوازشریف کے ساتھ ہوں اور کبھی انہوں نے کرپشن کے لیے نہیں کہا اور نوازشریف نے ملک کوایٹمی طاقت بنایا اس لیے وہ قصور وار ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نوازشریف نے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا اور معیشت کومستحکم کیا اور ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی یہی نہیں بلکہ نوازشریف نے 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو سزا مل گئی ہے اس لیےعوام نے انہیں مسترد کردیا ہے کیوں کہ اگر اپوزیشن نے کچھ کام کیا ہوتا تو آج ہماری جگہ پر بیٹھے ہوتے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے وزارت عظمٰیٰ کی ذمہ داری کا احساس ہے اور مجھے معلوم ہے کچھ لوگ میرے اثاثہ جات کو لے کر سوالات اُٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں بتادینا چاہتا ہوں کہ 30 سال پہلے میرے اثاثے کئی گنا تھے اور سیاست میں آیا تومیرےاثاثے کم ہوئے ہیں زیادہ نہیں ہوئےمیں نے جو کچھ بنایا ہے اپنی محنت سے بنایا اور سب کے سامنے گنوایا ہے اس لیے الزام لگانے والے سامنےآئیں، میں احتساب کیلئے تیارہوں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست ملک میں ایک گالی بن چکی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ایوان اپنے تقدس اورعزت کو بحال کرے جس کے لیے ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہے 45 دن کیلئے یا 45 گھنٹے کیلئے آیا ہوں میں ملک کیلئےکام کروں گا کیوں کہ میں کام کرنے آیا ہوں سیٹ گرم کرنے نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں