The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم کل او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول جائیں گے

بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے، عالمی برادری بھارتی مظالم کا نوٹس لے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کل فلسطین پر ترک صدر کی جانب سے بلائے گئے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اسرائیل کی فلسطینیوں پر مظالم اور قتل عام کی مذمت کرتا ہے، پاکستان کو امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے پر تحفظات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل نکالا جائے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مدنظر رکھا جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے حوالے سے پالیسی بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے، دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر مسلسل خلاف ورزیوں پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرلیا گیا ہے، خیال رہے کہ بھارت نے 15 مئی کو تتہ پانی سیکٹرپرگولہ باری کی جس میں ایک پاکستانی شہری شہید ہوا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے نہتے شہریوں پر گولہ باری پر احتجاج کیا ہے، رواں سال اب تک بھارتی فوج نے تقریباً ایک ہزار بار ایل او سی کی خلاف ورزی کی، جس میں 24 شہری شہید اور 107 زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ پڑھیں :  فلسطین کی سنگین صورت حال سے متعلق او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب

پاکستان نے عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، بریفنگ میں کہا گیا کہ بھارت نے حریت قیادت کو بھی غیر قانونی طور پر حراست میں لے رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل نے 70 برس سے فلسطینیوں کی زمین پرقبضہ جما رکھا ہے، ترک صدر

ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے میزائل حملوں کی بھی مذمت کی ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور پی فائیو معاہدے کی حمایت کرتا رہا ہے تاہم ایران پر یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:  بھارتی آرمی چیف کے مکروہ عزائم، کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھنے کا اعلان

ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈاکٹر مہاتیر بن محمد کو ملائشیا کا وزیر اعظم بننے پر مبارک باد دی ہے۔ کرنل جوزف کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ وہ سفارتی استثنیٰ کے تحت واپس چلے گئے، مجھے اس سلسلے میں دیت کے معاملے کا علم نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں