The news is by your side.

Advertisement

نیب کی عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں، شاہد خاقان عباسی

کراچی: وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کیسز کے نتائج دیکھتے ہوئے انھیں نیب کی عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، احد چیمہ کی گرفتای سے متعلق شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں نے احد چیمہ کے ساتھ دو سال کام کیا، وہ ایک قابل افسر ہیں، اس قسم کی گرفتاری کے بعد آج کوئی بھی افسر کام کرنے کو تیار نہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ترکمانستان کےصدرسے ملاقات

انہوں نے کہا کہ نیب میں انتہائی سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت کی ہے، نیب کے بنیادی قانون کی نفی نہیں کرسکتا لیکن اداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ہر فیصلے کی گارنٹی نہیں ہوتی کچھ غلط بھی ہو سکتے ہیں، ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ بیورو کریسی اگر کام نہ کرے تو کوئی نہ پوچھے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہر ادارہ اپنے اختیارات کی حد میں رہ کر کام کرے، لیکن یہاں تو صرف سیاست دانوں کا احتساب ہوتا ہے، انہی پر تنقید کی جاتی ہے، ایک آمر کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے نیب کے قوانین چند دنوں میں بنائے گئے، ماضی میں نیب کے قوانین پر متعدد بار بحث ہوئیں، کمیٹیاں بنیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نااہلی کا موجودہ قانون غلط ہے، نااہلی کا فیصلہ عوام خود کریں، عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ کس کو اپنا لیڈر بناتے ہیں، کوئی تناؤ نہیں مارشل لا جیسی نوبت نہیں آئے گی، ڈان لیکس پبلک کرنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن معاملات آئین کے مطابق ہونے چاہیے۔

ججزکے طرزعمل کو پارلیمنٹ میں زیربحث لایا جائے، شاہد خاقان عباسی

شہباز شریف کے قائم مقام پارٹی صدر بننے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو پارٹی صدر ماننتے ہیں، انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کا فیصلہ ہوگا، میرے لیے وزارت عظمیٰ کے امید وار شہباز شریف ہیں، اگر مریم نواز کھڑی ہوئیں تو میرا ووٹ ان کے حق میں ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ پیسے دے کر سینیٹ آنے والوں کو عوام کی نمائندگی کا حق نہیں، یہ انتخابات ہارس ٹریڈنگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں