The news is by your side.

وزیراعظم کی ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

استنبول : وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ساٹھ دن میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرادی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان ترکیہ بزنس کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں گزرا ہوا کل کا دن بہت اچھا رہا، ترکیہ پہنچنے پر میرا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکیہ ہمارا دوسرا گھر ہے، تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے اچھی گفتگو ہوئی، پاکستان ترکیہ بزنس کونسل سےدونوں ممالک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ترکی میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتا ہوں اور حملےمیں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، دہشت گردی کی اس لعنت کو ختم کرنے میں ترکیہ کے ساتھ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نےدہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، پاکستان کےعوام ، فورسز، ڈاکٹرز اور عام عوام نے قربانیاں دی ہیں۔

وزیراعظم نے سیلاب زدگان کی مدد پر ترک صدر اور عوام کے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کی جانب سے ادویات، ڈاکٹرز اور دیگر چیزیں بھیجی گئیں، ترکیہ اور پاکستان کی دوستی کو پوری دنیا جانتی ہے، ترکیہ اور پاکستان کے دل 2 بھائیوں کی طرح جڑے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کےدرمیان تعلقات تاریخی اور تجارتی تعلقات گہرے ہیں، پاکستان میں سیلاب سے 35ملین لوگ متاثر ہوئے، ترکیہ نے پاکستان کے مشکل وقت میں ساتھ دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی کوبھلاکرتیزی سےترقی کی جانب بڑھنا ہوگا، دونوں ممالک کےدرمیان تجارت کو تیزی سے بڑھانے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کو کاروبار کے قوانین کو آسان بنانا ہوگا اور کاروباری رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ بیجنگ کی طرح ترکیہ سے بھی کچھ شکایات آئی ہیں، چین نے 33 بلین ڈالر کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے، ترک صدر نے بتایا کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہ رہی ہیں لیکن کمپنیوں کو ادئیگیاں نہیں ہوتیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اب ہماری حکومت میں اس طرح کی صورتحال کو برداشت نہیں کیا جائے گا ، دونوں ممالک کےدرمیان تعلقات خراب کرنے والے عناصرکو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے ترک صدرکو یقین دہانی کرائی کہ کاروبار کے قوانین کو آسان بنایا جائے گا، تجارت کو بڑھانے کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں