وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے درمیان ہونے والی ملاقات کا احوال سامنے آگیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پی پی وفد نے وفاقی و پنجاب حکومت رویے پر شکایتوں کے انبار لگادیے، پیپلزپارٹی وفد نے وزیراعظم سے شکایت کی کہ وفاقی وزرا کے رویے پر نالاں ہیں۔
پی پی وفد نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت سے بہت شکایات ہیں، ہم کسی صورت آپ کی حکومت گرانا یا مخالف میں نہیں جانا چاہتے، ہمیں مجبور نہ کریں۔
پیپلزپارٹی وفد کا کہنا ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو شکایات ہین سی ای سی کا اجلاس بھی اسی لیے بلایا ہے، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں پیپلزپارٹی اہم فیصلے کرے گی۔
یہ پڑھیں: پی پی اور حکومت کے درمیان ملاقات میں کیا ہوا؟ اندرونی احوال
ذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے پر غور سی ای سی میں کرے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پی پی نے نائب وزیراعظم سے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق قانون سازی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اس حوالے سے پی پی کو اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ بھی کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پی پی وفد نے دوٹوک کہا کہ نون لیگ کا ہماری جماعت سے بطور اتحادی مشاورت نہ کرنا افسوسناک ہے۔ ہمیں پنجاب پاور شیئرنگ فارمولا پس پشت ڈالنے پر بھی تحفظات ہیں کیونکہ اس فارمولے پر معاملات ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے۔
نائب وزیراعظم نے پی پی کے تحفظات اور شکوے ن لیگ کی قیادت کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


