The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کیس: عدالت کا ایف آئی اے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار

لاہور کی مقامی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل میں شہباز شریف اورحمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے مفرور ملزمان سلمان شہباز، ملک مقصود اور طاہر نقوی کے وارنٹ گرفتاری پر رپورٹ پیش کی گئی، اسپیشل کورٹ کے جج اعجاز حسن اعوان نے عملدرآمد رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر کی سرزنش کی۔

عالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ رپورٹ کے مطابق ملزمان تو متعلقہ پتے پر موجود ہی نہیں جبکہ ایک سال پہلے ملزمان کو متعلقہ ایڈریس پر نوٹس بھجوانے کی رپورٹ دی گئی، کس بات پر یقین کریں؟ کیوں نہ انویسٹی گیشن افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا جائے۔

اس کے علاوہ عدالت نے سلمان شہباز کے وارنٹ پر والد کا نام درج نہ ہونے اور وفات پانے والے ملزم کا نام چالان میں شامل کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کاغذ پیش نہیں کر رہا جو حکومت کے بدلنے کے بعد ریکارڈ پر آیا ہو، تمام ریکارڈ پچھلے دور حکومت کا ہے، دس سال میں کھلنے اور بند ہونے والے کسی اکاؤنٹ کا شہباز شریف سے تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف 16مقدمات درج

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت کا شہباز شریف پر مقدمات بنا کر پابند سلاسل رکھنے پر فوکس تھا، قانون کے مطابق کسی کے خلاف دس مقدمات ہوں تو باری باری گرفتاری نہیں کی جائے گی۔

وکیل وزیراعظم نے مز ید دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے نے کئی لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے نہ انہیں ملزم بنایا گیا نہ گواہ بنایا گیا، منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی توثیق کے لیے شہباز شریف کے وکیل امجد پرویزنے دلائل مکمل کیے، آئندہ سماعت پر ضمانت کی توثیق کے لیے امجد پرویز حمزہ شہباز کی جانب سے دلائل دیں گے،عدالت نے سماعت 4 جون تک ملتوی کرتے ایف آئی اے کے وکیل کو چالان کے نقائص دور کرنے کی ہدایت کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں