اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ جنیوا میں امریکا ایران معاہدے کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے تاریخی معاہدے کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جنیوا میں منعقد ہونے والی باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔
عالمی سفارتی حلقوں میں اس معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان نے مرکزی اور متحرک ترین کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف 19 جون کو جنیوا میں ہونے والی اس تاریخی تقریب میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے۔
اس دورے کے دوران ان کے ہمراہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک مقتدر وفد بھی موجود ہوگا۔
عالمی میڈیا کے مطابق یہ امن معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل اور انتہائی کٹھن مذاکرات کا نتیجہ ہے، جس کا باقاعدہ اعلان خود وزیر اعظم پاکستان نے علی الصبح دنیا کے سامنے کیا تھا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انتہائی حساس اور ناممکن نظر آنے والے معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل رہا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہر معاملے میں پیش پیش رہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن، تہران اور بیجنگ کے پسِ پردہ دورے کر کے دونوں عالمی طاقتوں اور خطے کے شراکت داروں کو ایک میز پر لانے کے لیے دن رات کام کیا، جسے چین اور دیگر عالمی طاقتوں نے بھی کھل کر سراہا ہے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے بھی تہران اور واشنگٹن کے مابین سفارتی چینلز اور مسودے کی تیاری میں تکنیکی و سیاسی روابط کو انتہائی مہارت سے سنبھالا، ان کا متحرک کردار عالمی سطح پر قابلِ تعریف رہا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی: انہوں نے اس پورے عمل کے دوران سیکورٹی، تزویراتی اور حساس نوعیت کے معاملات میں پسِ پردہ رہ کر ایک کلیدی اور مربوط کردار ادا کیا، جس سے مذاکرات کے مختلف ادوار کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مدد ملی۔


