The news is by your side.

Advertisement

پی ایم ڈی سی آرڈیننس کی واپسی کا فیصلہ نیا قانون تشکیل دینے کے لیے کیا: ترجمان

اسلام آباد: وزارت قومی صحت نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) آرڈیننس کی واپسی کا فیصلہ نیا قانون تشکیل دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور قرارداد منظور ہونے کے بعد حکومت نے پی ایم ڈی سی سے متعلق بل واپس لیا، جس کے بعد وزارت قومی کی جانب سے اس سلسلے میں وضاحت جاری کی گئی ہے۔

ترجمان وزارت قومی صحت نے کہا ہے کہ یہ آرڈیننس اس لیے واپس لیا جا رہا ہے تاکہ نیا قانون تشکیل دیا جا سکے، ماضی میں غلط پالیسیوں سے طبی تعلیم اور شعبہ طب کے معیار میں کمی ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں سے عالمی سطح پر ملک کی جگ ہنسائی ہوئی۔

ترجمان نے بتایا کہ سینیٹ میں حکومت کے پیش کردہ آرڈیننس کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا، قائمہ کمیٹی قومی صحت نے اس آرڈیننس میں ترامیم کی سفارش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  سینیٹ اجلاس: اپوزیشن کا احتجاج، پی ایم ڈی سی بل واپس، کشمیریوں کا ساتھ دینے کا عزم

ترجمان کے مطابق بہتر قانون سازی کے لیے آرڈیننس میں ترامیم کے جائزے کی ضرورت ہے، حکومت ملکی اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ آج سینیٹ کے اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل بل سے متعلق کمیٹی رپورٹ پیش کی گئی، جس پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا، اپوزیشن رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ہم یہ رپورٹ پیش نہیں ہونے دیں گے، کوشش کی گئی تو ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔

بعد ازاں، سینیٹر شیری رحمان نے پی ایم ڈی سی آرڈیننس 2019 مسترد کرنے کی قرارداد سینیٹ میں پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔ حکومت نے بھی بل واپس لے لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں