The news is by your side.

Advertisement

آئندہ انتخابات میں نشستوں پر ن اور ق لیگ میں ڈیڈ لاک

لاہور: مسلم لیگ (ق) اور ملسم لیگ (ن) میں آئندہ انتخابات میں نشستوں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی 15 نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کر دیا جب کہ مسلم لیگ (ن) اتنی زیادہ نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ نہیں چاہتی۔

ذرائع ن لیگ کے مطابق جتنی نشستیں ق لیگ کی ابھی ہیں وہی آئندہ بھی لے لیں، وزارت اعلیٰ پر اختلاف نہیں لیکن زیادہ نشستیں نہیں دے سکتے، ن اور ق لیگ رہنماؤں میں کل پھر ملاقات ہوگی۔

ترجمان مسلم لیگ (ق) کا کہنا ہے کہ ن لیگ سے سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ سے متعلق بات حقائق کے منافی ہے، ملاقات میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی، مشاورت جاری ہے، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ن لیگ وفد کی ق لیگ قیادت سے ملاقات ہوئی، دونوں جماعتوں کا رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا وفد مسلم لیگ ق سے ملنے آیا تھا، ماضی میں چوہدری برادران کیساتھ کام کیاہے، ہمارےآپس میں دیرینہ اوراچھےتعلقات ہیں، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پربھی گفتگوہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تفصیل کیساتھ مشاورت کی اورمزیدجاری رہےگی، تحریک عدم اعتمادسیاسی بارگین یاسیاسی مفادکیلئےنہیں، عمران خان نےساڑھے3سال میں معیشت کوتباہ کیا، عمران خان نےدوستوں اوراپنےارکان کونہیں چھوڑا، عمران خان نےتواتحادیوں کوبھی نہیں بخشا۔

جب کہ ملسم لیگ (ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ خواجہ سعدرفیق کی مہربانی ہےہمیں عزت بخشی ہے، عدم اعتمادکیلئےن لیگی وفدآیاہماری مشاورت ہوگی، ایک دوروزمیں فیصلہ کرلیں گے، ہماری خواہش ہےبلوچستان عوامی پارٹی کےاپنےمسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہےکہ تمام اتحادی مل کرفیصلہ کریں، ہم نےاگراپوزیشن کاساتھ دیناہےتوایک طرف دیکھناہوگا، ساڑھے3سال کاتجربہ بھی اچھانہیں رہاہے، یہ درست ہےہمیں عدم اعتمادسےپہلےفیصلہ کرناہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں