اسلام آباد : مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کو حکومت میں شمولیت کی پیشکش کردی اور کہا "پی ٹی آئی آپ کے ساتھ نہیں چل پا رہی، آپ ہمارے ساتھ آ جائیں۔
تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا الرحمان سے ن لیگ، پی پی اورجی ڈی اے رہنماؤں کی ملاقاتوں کا احوال سامنے آگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان کو علیحدہ علیحدہ طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل ہونے کی باقاعدہ دعوت دے دی ہے۔
ن لیگ کے ایک سینئر رہنما نے تین روز قبل مولانا سے ملاقات کی اور انہیں مرکز اور بلوچستان میں حکومت کا حصہ بننے کی دعوت دی۔
ن لیگ کی جانب سے کہا گیا کہ "پی ٹی آئی آپ کے ساتھ نہیں چل پا رہی، اس لیے بہتر ہے کہ آپ ہمارے ساتھ آ جائیں”۔
بلوچستان کا پلان: جے یو آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ن لیگ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کو ‘مائنس’ کر کے جے یو آئی کے ساتھ مل کر حکومت بنانا چاہتی ہے۔
ن لیگ کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی جے یو آئی کو سندھ اور بلوچستان میں مل کر حکومت بنانے کی دعوت دی ، پی پی نے جے یو آئی کو گلگت بلتستان میں بھی مشترکہ طور پر چلنے کی پیشکش کی ہے۔
جے یو آئی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی بھی ن لیگ کے بغیر بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے مولانا کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، تاہم ان کا مطالبہ حکومت کے بجائے سندھ میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا تھا۔
مولانا فضل الرحمان اور پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ان تمام تجاویز پر حتمی فیصلہ پارٹی کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں کیا جائے گا، جس کے بعد ہی مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل واضح ہوگا۔
نعیم اشرف بٹ اے آر وائی نیوز کے
تحقیقاتی صحافت کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں


