The news is by your side.

ن لیگ نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلیے الیکشن کمیشن کو ایک اور تاریخ دے دی

الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ ن میں انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ن لیگ نے 31 جنوری کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے انٹرا پارتی الیکشن کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال سیاسی کمشکش کی وجہ سے مصروف ہے۔ تحریک عدم اعتماد سمیت بہت سے مسائل درپیش رہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے سے متعلق سنجیدہ ہیں۔ تاہم پارٹی صدر شہباز شریف اور سیکریٹری جنرل احسن اقبال کے بیرون ملک ہونے کے باعث انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہوسکے۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم واپس نہیں آگئے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ وزیراعظم آگئے ہیں لیکن سیکریٹری جنرل نہیں آئے اور وہ جنیوا میں ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اس کو سیکریٹری جنرل کیوں نہیں بناتے جو الیکشن کیلیے موجود ہو۔ آپ کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن کب کرا سکتے ہیں۔ جس پر ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ پارٹی آئین میں 4 سال بعد کرانا ہے لیکن کب یہ نہیں لکھا ہے۔

اس موقع پر ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے 31 جنوری تک تاریخ دے دیں اور اگر نہیں کراتے تو ہم انتخابی نشان واپس لے لیتے ہیں۔

وکیل ن لیگ نے استدعا کی کہ انتخابی نشان واپس نہ لیں، وقت دے دیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا مذاق ہے آپ فکس تاریخ ہی نہیں دے رہے۔ چند پارٹیوں کے علاوہ باقی سب پارٹیاں انتخابات کے نام پر مذاق ہی کرتے ہیں۔

ن لیگ کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ 31 جنوری کو انٹرا پارٹی الیکشن کرا دیے جائیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ ہر 15 روز بعد کہتے ہیں الیکشن کروا رہے ہیں لیکن کرواتے نہیں ہیں۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے ن لیگ کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کے لیے دو ماہ کا وقت دے دیا اور سماعت 14 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی.

Comments

یہ بھی پڑھیں