site
stats
پاکستان

ہم پر الزام لگانے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، آصف کرمانی

اسلام آباد : لیگی رہنما آصف کرمانی نے کہا ہے کہ ہم پر الزام لگانے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو نہ پکڑنے والے انصاف کی باتیں نہ کریں۔ عمران خان تین سال کا حساب نہیں دے سکے ہم ستر سال کا حساب دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما آصف کرمانی نے کہا کہ کچھ لوگوں کو آج عدالتوں کے احترام کا بڑا درد ہے،مسلم لیگ(ن)نے عدلیہ کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کیا، لوگوں کا سمندر لانگ مارچ میں نوازشریف کیساتھ نکلا۔

آصف کرمانی نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اعلیٰ عدالتوں کو کینگرو کورٹ کہا تھا، گوجرانوالہ پہنچ کر پتہ چلا ججز کو بحال کیا جارہا ہے، نوازشریف نے اسی وقت لانگ مارچ ختم کرنے کافیصلہ کیا، نوازشریف چاہتے تولاکھوں لوگ ان کے ساتھ تھے آگے جاسکتے تھے۔

بڑی بڑی باتیں کرنے والے اپنے دور میں عدالتوں کو مانتے ہی نہیں تھے

لیگی رہنما نے کہا کہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے اپنے دور میں عدالتوں کو مانتے ہی نہیں تھے، دوسروں کے لئے باتیں کرنے والے پہلے اپنے گربیان میں جھانکیں، آپ سے تو ابھی محترمہ کے قاتل نہیں پکڑے گئے،جن کوآپ جانتے ہیں، عمران خان 3سال کا حساب نہیں دے سکا، ہم70 سال کا دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کل بھی عدالتوں کا احترام کیا، آئندہ بھی کرتے رہیں گے، ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف ہونا چاہئے، جے آئی ٹی اور عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، اگرمحسوس ہوا ہٹ کر برتاؤ کیا جارہا ہے تو پھر اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کرینگے۔

اگرمحسوس ہوا ہٹ کر برتاؤ کیا جارہا ہے تو پھر اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کرینگے

رہنما مسلم لیگ(ن) کا کہنا تھا کہ نواز شریف پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،نوازشریف پاکستان کو معاشی طاقت بنانے کی جنگ لڑ رہے ہیں، نوازشریف منتخب وزیراعظم ہیں، ان کا نام پاناما میں نہیں ہے، تنقید برائے تنقید کرنے والے تحمل رکھیں، چند دنوں کی بات ہے، تحقیقات کے بعد دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔

آصف کرمانی نے کہا کہ جے آئی ٹی جب بلائے گی ہم آئیں گے، جھوٹ کی سیاست کرنے والے دیکھیں گے ہم سرخروہوں گے، انصاف ہوا تو آج باتیں کرنے والوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، معزز ججز پر اعتماد ہے، یہ ڈوگر کورٹ کا دور نہیں، امید ہے ہم سے انصاف کیاجائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top