The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کا جیل میں ٹرائل کر کے انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں، شہباز شریف

پریس کانفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال کا عندیہ

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ جیل میں نواز شریف کا ٹرائل کر کے نگراں حکومت نے انصاف کی دھجیاں اڑا دیں، جیل میں ٹرائل دہشت گردوں کا ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف تو مشرف دور میں بھی جیل میں ٹرائل نہیں ہوا، کل نگراں حکومت نے لاہور میں خوف و دہشت کی فضا پیدا کی۔

صدر ن لیگ نے کہا کہ سانحہ مستونگ میں بھارت ملوث ہے، دہشت گردی کے واقعات پر پوری قوم سوگوار ہے، بھارت پہلے بھی پاکستان میں امن کی صورت حال خراب کرنے میں ملوث رہا۔

شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ریلی اور جلوس میں ایک لائٹ اور گملہ تک نہیں ٹوٹا، کسی کو ایک خراش تک نہیں آئی، جب کہ پولیس نے کارکنوں پر ڈنڈے برسائے اور آنسو گیس پھینکی۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے میڈیا سے بھی شکوہ کیا، کہا ’کل میڈیا نے مسلم لیگ ن کی ریلیوں کی کوریج کا بائیکاٹ کیا، دوسری طرف نگراں حکومت نے ہمارے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا۔‘

چیئرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ’عمران خان پھر بہتان تراشی کر رہے ہیں، ان کے بیانات سے سر شرم سے جھک جاتا ہے، عمران خان میرے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ شہباز شریف خطرناک ہیں لیکن عمران کو بات دیر میں سمجھ آتی ہے ورنہ میرے خلاف محاذ کھول دیتے۔‘

شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال کا عندیہ بھی دیا، کہا ’جلد کال دوں گا، جلسے جہاں بھی ہوں گے پُر امن ہوں گے۔‘

لوگوں نے نوازشریف کا استقبال نہ کر کے زندہ دل ہونے کا ثبوت دیا، زعیم قادری


صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دفاع کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں گے، ہم سیاہ پٹیاں باندھ کر ملک بھر میں پُر امن احتجاج کریں گے، بلاول کا شکریہ ادا کرتا ہوں  جنھوں نے کارکنوں کی گرفتاری پر آواز اٹھائی۔

شہباز شریف نے کہا کہ نیب کو حقائق کی بنیاد پر احتساب کرنا چاہیے، نیب کے نشانے پر صرف مسلم لیگ ن اور ورکرز ہیں، ملک میں اگر شفاف الیکشن نہیں ہوئے تو نتائج تسلیم نہیں کریں گے، دھاندلی کی صورت میں سب کو متحد کر کے لائحہ عمل طے کریں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں