The news is by your side.

Advertisement

مسلم لیگ ن کی الیکشن کمیشن سے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کی استدعا

اسلام آباد : مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کردی، جس پر چیف الیکشن کمشنرنےپی ٹی آئی امیدوار سے تمام تفصیلات طلب کر لیں۔

تفصیلات کے مطابق این اے 75انتخابات اور نتائج کیس سے متعلق الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن سماعت کررہا ہے۔

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا دوران پولنگ اچانک کورونا ایس او پیس نافذ کردیےگئے اور علاقہ میدان جنگ بنایا گیا، ڈی پی او نظر ہی نہیں آئے۔

ریٹرننگ آفیسر بھی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 337پولنگ اسٹیشن کاریکارڈ ساڑھے 3بجے تک آر این ایس میں آ چکاتھا ، صورتحال بہت خراب تھی،لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ہمارے کمپیوٹرز کو نقصان کا خطرہ تھا۔

دیگر پولنگ سٹیشنز کے نتائج بھی آتے رہے، واٹس ایپ پر بھی نتائج آتے رہے، نتائج 3سے 6بجے تک موصول ہوئے، صرف 20پولنگ اسٹیشن کےنتائج کا مسئلہ تھا، میں نےپولیس افسران سے رابطہ کیا ،کوئی جواب نہیں ملا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کیا کوئی وائرلیس رابطوں کے انتظامات تھے؟ آر او نے جواب میں کہا جی ایسا کوئی انتظام نہیں تھا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا گیا، این اے 75 میں فائرنگ ہوئی لوگوں کی جانیں گئیں، تمام لاپتہ پریذائڈنگ افسران ایک ساتھ ہی سامنےآئے، بات صرف 20پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی نہیں۔

مسلم لیگ ن نے این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کردی، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی دستاویز ہے، پریس ریلیز میں اعلی ٰترین سطح پردھاندلی کی نشاندہی کی گئی، آئی جی، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت سب ہی لاپتہ تھے، پہلا الیکشن ہے جہاں 20پریزائیڈنگ افسران غائب
اور جس ڈی ایس پی کو الیکشن کمیشن نےہٹایا تھا ،ایس پی بناکرتعینات کیاگیا۔

ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ پریذائیڈنگ افسران کی گمشدگی اس دھاندلی سے توجہ ہٹانے کیلئے تھی، الیکشن کمیشن کی ڈسکہ الیکشن پر پریس ریلیز تاریخی ہے، کورونا ایس او پی کو ووٹرزکو ووٹ ڈالنے سے روکنے کیلئے استعمال کیا گیا، سلمان اکرم راجہ

ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ 337 پولنگ اسٹیشنز کااندراج ساڑھے 3 بجے تک ہوچکا تھا، پونے 2 بجے تک 305 پولنگ اسٹیشن کے نتائج آگئے، حلقےمیں 360 پولنگ اسٹیشن ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے آراو سے استفسار کیا آپ نے ایس او ایس کال کی ؟آپ گھبرائےہوئےتھے،کیا صورتحال تھی ؟پولیس کو آپ نے کال کی۔

ریٹرننگ افسر نے کہا کہ تیسری بار آر او کے فرائض سر انجام دیے، ممبر الیکشن کمیشن ارشادقیصر نے سوال کیا کیا موصول فارم 45 کی تفصیلات آپ نے دی ہیں ، جس پر ریٹرننگ افسر نے جواب میں کہا تفصیلات فراہم کی جا چکی ہیں۔

باد:این اے 75 ضمنی انتخابات سےمتعلق الیکشن کمیشن میں سماعت
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمیں اُس سے غرض نہیں ہے کو جیتتا کون ہارتا ہے ، چند پولنگ اسٹیشن کا معاملہ ہےتودوبارہ پولنگ کرائی جائے گی اور اگرماحول بنایا گیا ووٹ نہیں ڈالنے دیےگئے تو ہم سب معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنرنےپی ٹی آئی امیدوارسے تمام تفصیلات طلب کر لیں ، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کوئی دستاویزات فراہم کرنا چاہتےہیں تودیدیں، رکن الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم کا کہنا تھا کہ وقت مختصر ہے جو بھی ہے جلدتفصیلات فراہم کریں ،دونوں فریقین کےنتائج کا تقابل کریں گے۔

وکیل پی ٹی آئی نے مؤقف میں کہا ریکارڈ پرسوں پیش کر سکتے ہیں ، ہم تصدیق شدہ کاپیاں پیش کریں گے ایک دن دیا جائے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کل تک ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن میں این اے 75انتخابات اور نتائج کیس کی سماعت 25 فروری تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں