The news is by your side.

Advertisement

جج ارشد ملک برطرفی، ’مسلم لیگ ن بلیک میلر مافیا کی سرپرستی پر قوم سے معافی مانگے‘

اسلام آباد: وفاقی زیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ جج ارشد ملک کی ملازمت سے برخاستگی  صدی کا سب سے بڑا ڈراپ سین ہے، مسلم لیگ ن اور قیادت کو قوم سے معافی مانگنا چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’جج ارشدملک کی ملازمت سےبرخاستگی اس دورکا سب سے بڑا ڈراپ سین ہے کیونکہ اس دورمیں کچھ ججز کو عہدوں کا ناجائز استعمال کرنے والوں کےذریعے بلیک میل کیاگیا‘۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو بلیک میلنگ مافیاز کی سرپرستی پرقوم سےمعافی مانگی چاہیے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب اور تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رکن شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جج بلیک میلنگ کیس کے 2 کردار تھے جن میں سے ایک ارشد ملک خود ہی برطرف ہوگئے۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک برطرفی، شہباز گل کا ویڈیو بنانے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ

اُن کا کہنا تھا کہ کھیل کا دوسرا کردارمریم صفدر ہیں جنہوں نے اپیل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، انہیں ابھی سزا ہونا باقی ہے۔ شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ ارشد ملک کی بطور جج تعیناتی شاہد خاقان عباسی نے کی تھی۔

یاد رہے کہ لاہورہائی کورٹ نے ویڈیو بلیک میلنگ کیس میں نامزد جج ارشد ملک کوعہدے سے برطرف کردیا، چیف جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی نے فیصلہ سنایا۔

لاہورہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی میں شامل سات سینئرججز نےاجلاس میں ارشد ملک کی معطلی کا فیصلہ کیا، اجلاس میں جسٹس محمد امیر بھٹی، شہزادہ احمد خان سجاد علی خان ، جسٹس عائشہ ملک جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی شامل شریک تھے۔

خیال رہے ارشد ملک اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج تعینات تھے ، انھوں نےچوبیس دسمبردو ہزار اٹھارہ کو نوازشریف کوالعزیزیہ کرپشن ریفرنس میں سات سال سزا سنائی تھی اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک کو برطرف کردیا گیا

جس کے بعدجج ارشد ملک کا ویڈیو اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، ارشدملک نےنوازشریف اورحسین نوازسےملاقاتوں کا اعتراف کیا تھا، یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچا اور اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان نے 23 اگست 2019 کو حکم نامے میں کہا تھا کہ نوازشریف کی سزاکا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی کرسکتی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں