The news is by your side.

Advertisement

اپنے چیف کے خلاف کوئی بات نہیں‌ سن سکتا، مستقبل کا فیصلہ جلد کروں‌ گا، عبدالقادر بلوچ

کوئٹہ: مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کرنے والے سابق لیگی رہنما عبد القادر بلوچ نے کہا ہے کہ میں اپنے چیف کے خلاف کوئی بات نہیں سُن سکتا، آج جو بھی عزت ہے وہ پاک فوج کی وجہ سے ہے، مستقبل کا فیصلہ مشاورت کے بعد کروں گا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جلسےکے بعدمسلم لیگ ن سے راستےجدا کرنے کا فیصلہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم (میں اور نواب ثنا اللہ زہری) نے 2010 میں مسلم لیگ ن  میں شمولیت اختیار کی، نواب صاحب نے اپنے بیٹے اور بھتیجے کی قربانی بھی دی،نواب ثنااللہ زہری نے جو عزت دی میں اس کونہیں بھولوں گا۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم نے مسلم لیگ ن کے لیے خون کا نذرانہ پیش کیا، ایک پارٹی کو پہلی باربلوچستان میں 22ارکان کی اکثریت ملی، شہبازشریف بلوچستان آئے مگر وہ ایک کمرے میں ہی قیام کر کے واپس چلے گئے، انہوں نے نیشنل پارٹی کے رہنما سے ملاقات کی اور مری پہنچ کر ہم کوملاقات کےلیے بلا لیا۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائی کا 21 واں گریڈ تھا مگر اُسے 19 گریڈ کا ملازم بنا کر پوسٹنگ کی گئی، ہم نے اُس پر بھی خاموشی اختیار کی، ثنا اللہ زہری نے دریا دلی کے ساتھ نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کو عزت دی کیونکہ وہ بلوچستان کو ایک ہی نظر سے دیکھنا چاہتے تھے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف اعتماد میں لیے بغیر نیشنل پارٹی کے رہنما کو پارلیمانی لیڈربنانےکافیصلہ کر دیتے ہیں، ان تمام باتوں کے باوجود ہم مسلم لیگ سے جڑے رہے‘۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف اپنے دور میں کوئٹہ اور گوادر کےسوا بلوچستان میں کہیں نہیں گئے،انہوں نے کبھی بلوچستان سے متعلق فیصلوں میں ہم سے مشاورت نہیں کی اور نہ ہی اپنے دور میں بلوچستان کے لوگوں کے لیے کچھ بھی کام کیا، مجھےنوازشریف دورمیں فاٹا کی وزارت دی گئی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ڈھائی سال میں میں نے پارٹی کے خلاف ایک بات بھی نہیں کی، مجھ سےکہاگیاچیف آف جھالاوان کو اہمیت دی تو اخترمینگل ناراض ہوجائیں گے جبکہ اخترمینگل قبائلی نظام میں چوتھے پانچویں نمبرپر ہیں اور نواب ثنا اللہ زہری اُن سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں‘۔

عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ’اگر نواب ثنا اللہ زہری مسلم لیگ ن میں نہیں ہوں گے تو میں بھی نہیں رہوں گا کیونکہ وہ میرے بڑے اور اپنے فیصلے کے مالک ہیں، ایسی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا جس میں میرے فیصلوں کی وجہ سے نواب صاحب کی دل آزاری ہو‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز کے کہنے پر سلیکٹڈ کارکنان کے جلسےکا انتظام کیا،مریم نوازنےتقریرکی اور کارکنان سے کوئی ملاقات نہیں کی، وہ تقریر کے بعد واپس چلی گئیں، مریم نواز وزیراعظم اوربےنظیربھٹوبننےکاخواب دیکھ رہی ہیں‘۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’آج تک سپریم کورٹ پرویز مشرف کے مارشل لاء کے غیر قانونی ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکی جبکہ پارٹی قائد کہتے ہیں کہ فوج کے عہدیدارکسی بھی حکم کو آئین کی روشنی میں دیکھیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’فوج کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ بلا پس و پیش ملنے والے حکم پر عمل کریں، اسی فوج کی وجہ سے بلوچستان میں امن وسکون آیا، میرے پارٹی سے علیحدگی کے فیصلےکی بنیادی وجہ نوازشریف کی فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش ہے‘۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’آج میں جوکچھ بھی ہوں وہ فوج کی وجہ سےہوں، سوچ بھی نہیں سکتاکہ  فوج سے متعلق ایسی سوچ رکھنے والےکےساتھ رہوں، پرویزرشیدٹھیک کہتےہیں میں اپنےچیف کی بےعزتی برداشت نہیں کرسکتا، میرا باپ بھی قبرسے نکل کر آجائے تو فوج سےغداری نہیں کروں گا، اپنے چیف سے متعلق کوئی بھی بات برداشت نہیں کرسکتا‘۔

عبدالقادر بلوچ نے مزید کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ اب کسی صورت واپس نہیں لوں گا، آئندہ لائحہ عمل کے لیے میں اور نواب ثنا اللہ زہری صلاح مشورہ کریں گے، آزاد گروپ یا کسی پارٹی میں شامل ہونےکا فیصلہ مشورے سے کریں گے، ہم عزت سےرہنا چاہتے ہیں، بلوچستان کے بچھڑے لوگوں کے لیے میں اپنی پرانی فیملی فوج کے پاس جاؤں گا، ہم جوبھی کریں گے وہ ساتھ ہی کریں گے‘۔

پریس کانفرنس کے آخر میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ بلوچ کبھی بھی عزت پرسمجھوتا نہیں کرتا، بلوچستان میں سیاست کرنے والا بلوچستان کو جاننےکی کوشش کرے، یہاں رہنے والے تمام لوگ عزت کی زندگی چاہتے ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں