The news is by your side.

Advertisement

’مسلم لیگ ن ماڈرن ایسٹ انڈیا کمپنی ہے‘

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو جدید ایسٹ انڈیا کمپنی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس پر میڈیا کو بریفنگ میں کہا ن لیگ کو ہم ماڈرن ایسٹ انڈیا کمپنی کہتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی نے جس طرح باہر سے آ کر پیسہ لوٹا تھا، ویسے ہی ن لیگ نے کیا۔

انھوں نے بریفنگ میں بتایا کہ جی 20 ممالک کو واجب الادا 3.7 ارب ڈالر قرض سال کے آخر تک مؤثر ہو گیا ہے، اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ میشن پر الیکشن کمیشن نے بریفنگ دی، ای وی ایم ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے، دوسری ترجیح اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ای ووٹنگ کا سسٹم ہے۔

فواد چوہدری نے مطالبہ کیا کہ عدالتوں میں جو 2 سے 4 بڑے کیسز ہیں ان کو روزانہ کی بنیاد پر سننا چاہیے، عدالیہ سے مطالبہ ہے شہباز شریف کے کیسز کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے، لندن میں یہ گھوڑے رکھ کر تصاویر بنوا رہے ہیں، اور یہاں منتیں کر کے باہر گئے کہ بیمار ہوں لیکن وہاں بیٹھ کر پولو دیکھ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا سینیماز جلد کھل جائیں گے، اسد عمر سے بات ہوئی ہے، سینیماز 30 جون کو کھولنے کی تجویز ہے، تاہم فیصلہ این سی او سی کرے گی۔

فواد چوہدری نے کہا ایسے اقدامات کیے جائیں گے کہ کونٹینٹ انڈسٹری کو فائدہ ہو، کیبل آپریٹرز کو براہ راست کونٹینٹ خریدنے کا رائٹ ہوگا، چینلز کی تعداد بڑھانے اور معیار کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جو نوجوان فلم بنانا چاہتے ہیں وہ ہم سے قرضہ لیں اور فلم بنائیں۔

اوورسیز کے مسائل کے حوالے سے انھوں ںے کہا سفارت خانوں کی پہلے بھی شکایتیں آئی ہیں، کہ اوورسیز سے تعاون نہیں کیا جاتا، تمام سفارت خانے اپنی کمیونٹی سے تعاون کرنے کے پابند ہوں گے، جو سفارت کار اوورسیز پاکستانیوں سے تعاون نہیں کرے گا اسے واپس بلا لیا جائے گا۔

انھوں نے کراچی میں پراپرٹیز پر کہا کہ کارٹن ہوٹل، جمشید ٹاؤن اور دیگر پراپرٹیز کراچی کے دل میں واقع ہیں، کارٹن ہوٹل وفاق کی ملکیت ہے، ہماری کوشش ہے کہ غریبوں کو متبادل جگہیں دیں، کارٹن ہوٹل، جمشید ٹاؤن اور دیگر پراپرٹیز کی نیلامی کی طرف جائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا پارلیمنٹ بجٹ سیشن پر کابینہ اراکین میں بات ہوئی ہے، ہم حامی ہیں کہ بجٹ پر بحث ہونی چاہیے، لیکن یہ تنقید کو بہانہ بناتے ہوئے تذلیل کریں گے تو برداشت نہیں ہوگا، اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں غیر شائستہ رویے کی پلاننگ شہباز شریف خود کرتے ہیں، ن لیگ کے دو تین ایم این اے خود کو بد معاش سمجھ رہے ہیں، یہ اسمبلی میں نعرے بازی اور غلط زبان استعمال کرتے ہیں۔

ق لیگ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ق لیگ نے کسی بھی کابینہ میٹنگ کا بائیکاٹ نہیں کیا، آج بھی کابینہ میٹنگ میں شریک تھی، فنڈز دینے پر سپریم کورٹ نے پابندی لگائی ہے، حکومت والوں کو بھی فنڈز نہیں ملتے تو اپوزیشن کو بھی نہیں ملتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں