The news is by your side.

Advertisement

مسلم لیگ ن کو بڑا دھچکا، پنجاب کے اہم رہنما نے ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑ دی

گوجرانوالہ: ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر مسلم لیگ ن پنجاب کے عہدیدار مخدوم ارشد قمر نے ساتھیوں سمیت پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کے استعفے سے متعلق گوجرانولہ میں سنی اتحاد کونسل اور پیر حمید الدین سیالوی سمیت تمام مذہبی جماعتوں کی جانب سے ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

گوجرانوالہ کانفرنس میں مسلم لیگ ن کو ایک اور دھچکا لگا کہ جب مخدوم ارشد قمر نے ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا، اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں چھیڑ چھاڑ کر کے اچھا عمل نہیں کیا اور اب وہ ذمہ داران کو کٹھرے میں لانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق مخدوم ارشد قمر کو مسلم لیگ ن پنجاب کی علماء کمیٹی کے اہم رکن کی حیثیت حاصل تھی اور انہوں نے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم کے خلاف پارٹی قیادت کے سامنے آواز بھی بلند کی تھی۔

مزید پڑھیں: ختم نبوت کا معاملہ، مسلم لیگ ن کو ایک اور دھچکا، رکن اسمبلی مستعفی

واضح رہے کہ ایک روز قبل مسلم لیگ ن پی پی 62 سے منتخب ہونے والے رکن پنجاب اسمبلی رضا نصر اللہ گھمن نے ایم پی اے کی نشست سے استعفیٰ دیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم نبوت ﷺ کے قانون کی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ کافی مہنگا پڑگیا، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے بعد سے اراکین اسمبلی کے مستعفیٰ ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے پانچ اراکین اسمبلی اور متعدد کونسلرز  و تنظیمی عہدیداران نے 10 دسمبر کو فیصل آباد میں سنی اتحاد کونسل کے جلسے میں پارٹی چھوڑنے اور اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ ختم نبوت کے معاملے اور نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر مذہبی جماعتیں وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کے استعفے کا مطالبہ کررکھا ہے جبکہ مسلم لیگ ن یقین دہانی کے بعد اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ختم نبوت کا معاملہ، ن لیگ کوبڑادھچکا،5 اراکین اسمبلی مستعفی

یاد رہے کہ  تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنان نے گزشتہ ماہ  ڈاکٹر آصف جلالی کی سربراہی میں 7 روز تک پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیا تھا، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ رانا ثنا اللہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے دھرنا ختم کروانے کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں خواجہ سعد رفیق، میاں مجتبی، شجاع الرحمان جبکہ مذہبی جماعت کی کمیٹی میں مفتی عابد جلالی،میاں ولید شرقپوری سمیت دیگر قائدین شامل تھے۔

دھرنا قائدین نے مطالبہ کیا تھا کہ خواجہ حمید الدین سیالوی نے 3 دسمبر تک رانا ثنا اللہ کا استعفیٰ طلب کیا ہے، وزیر قانون پنجاب کو وضاحت کے لیے ہمارے پاس آنا چاہیے، بعد ازاں صوبائی وزیر نے مستعفیٰ ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ’کسی بھی چیز کا فیصلہ ہمارے سیاسی پیر نوازشریف کریں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت ملک میں نظام مصطفیٰ نافذ کرے، پیر حمید الدین سیالوی کا مطالبہ

حکومتی وعدہ خلافی پر مذہبی جماعتوں نے پیر حمید الدین سیالوی کی سربراہی میں رانا ثنا اللہ کا استعفے لینے کے لیے تحریک کا آغاز کیا جس کے تحت پہلا جلسہ فیصل آباد کے علاقے دھوبی گھاٹ میں 10 دسمبر کو منعقد کیا گیا جبکہ آج گوجرانولہ میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کو ختم نبوت کے معاملے پر پہلا بڑا دھچکا فیصل آباد کے جلسے میں لگا تھا کیونکہ اس جلسے میں  رکن قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ، ڈاکٹر نثا جٹ جبکہ رکن پنجاب اسمبلی نظام الدین سیالوی، محمد خان بلوچ، مولانا رحمت اللہ سمیت کئی بلدیاتی امیدواران نے بھی مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں