ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

ای چالان کیخلاف مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (11 نومبر 2025): سندھ ہائیکورٹ نے ای چالان (فیس لیس ٹکٹنگ سسٹم) کے خلاف مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

ای چالان کے خلاف مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر کو جواب طلب کیا جبکہ درخواست کو ای چالان سے متعلق دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی۔

واضح رہے کہ مرکزی مسلم لیگ کی درخواست میں چیف سیکرٹری، سندھ حکومت، آئی جی، ڈی آئی جی ٹریفک، نادرا، ایکسائز و دیگر فریق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منچلوں نے ای چالان سے بچنے کا حیرت انگیز طریقہ ڈھونڈ نکالا

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کراچی کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے شہر بھر میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، شہر میں کوئی سہولت نہیں لیکن شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ای چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، لاہور میں چالان کا جرمانہ 200 روپے جبکہ کراچی والوں کیلیے 5000 روپے کیوں؟ ایک ہی ملک میں دو قانون کیسے قابل قبول ہو سکتے ہیں؟ عدالت سے استدعا کی گئی کہ غیر منصفانہ اور امتیازی جرمانے غیر قانونی قرار دیے جائیں۔

واضح رہے کہ 30 اکتوبر 2025 کو مرکزی مسلم لیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ ہے شہریوں کو سہولت نہیں لیکن ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔

کراچی میں 28 اکتوبر سے گاڑیوں کے ای چالان کا آغاز ہوا اور ابتدائی دو دن اور 6 گھنٹوں کے دوران 11 کروڑ 55 لاکھ 65 ہزار روپے کے الیکٹرانک جرمانے ہوئے، یہ جرمانے سیٹ بیلٹ، موبائل فون کے استعمال، لال بتی کو کراس کرنے، ہیلمٹ اور تیز رفتاری پر کیے گئے۔

جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے بھاری ای چالان کے خلاف قرارداد جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ کراچی میں ٹوٹی سڑکیں، غائب نشانات اور اوپر سے بھاری چالان، شہریوں پر ظلم بند کیا جائے، حکومت غریب موٹر سائیکل سواروں پر بھاری جرمانوں کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں