site
stats
اہم ترین

وزیراعظم کے بچوں نے ڈوئچے بینک سے 70 لاکھ پاؤنڈ کا قرض لیا، برطانوی اخبار کا انکشاف

لندن : برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ مریم اور حسین نواز نے ٹیکس دیا یانہیں،ڈوئچے بینک نے تحقیقات شروع کردی ہے، وزیراعظم کے بچوں نے ڈوئچے بینک سے ستر لاکھ پاؤنڈ کا قرض لندن کے فیلٹس گروی رکھوا کرلیا۔

برطانوی اخبار کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم نواز اور حسین نواز نے دو ہزار آٹھ میں ڈوئچے بینک سے سترہ لاکھ پاؤنڈ کا قرضہ حاصل کیا، انہوں نے یہ قرضہ لندن کے علاقے پارک لین میں موجودفلیٹس کو گروی رکھوا کرلیا گیا۔

paper-s

دنیا بھر میں تہلکا مچانے والے انکشافات پانامہ لیکس کے مطابق فلیٹس نواز خاندان کی برٹش ورجن آئس لینڈ میں موجود تین آف شور کمپنیوں کے ملکیت ہیں، جس کی سول شیئر ہولڈر مریم نواز شریف ہیں، ڈوئچے بینک نے نواز خاندان کو پینتس لاکھ پاؤنڈ کیش اور پینتس لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری دی تھی۔

maryam-nawaz

نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور بیٹی مریم نواز نے اکتوبر 2008ء میں قرضے کے حصول کے لیے ڈوئچے بینک کے سوئٹزرلینڈ میں واقع شعبے سے رابطہ کیا تھا اور قرضے کے لیے اس فلیٹوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ ان کی ملکیت برطانوی ورجن جزائر کی تین کمپنیوں کے پاس تھی، جس کے بعد نواز شریف کے اہل خانہ نے ساڑھے 3 ملین پاؤنڈز کی نقد رقم اور مزید اتنے ہی “لکوئڈ ایسیٹس” یعنی “سیال اثاثوں” کی صورت میں حاصل کیے۔

nawaz-4-post

دوئچے بینک کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے کی اہمیت سے واقف ہیں اور دوئچے بینک نے دوہزار تیرہ سے شروع کئے آڈٹ میں نواز خاندان کو بھی شامل کرلیا ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ اپنے کلائنٹس کی معلومات کی چھان بین کر رہے ہیں اور ہم دیکھے رہے ہیں، ہمارے کلائنٹس کسی قسم کی ٹیکس چوری میں تو ملوث نہیں۔

nawaz-3

برطانوی اخبار کے مطابق پارک لین کے فلیٹس 1993ء اور 1996ء کے درمیان خریدے گئے تھے لیکن ان کی پشت پر موجود کمپنیاں 2006ء تک موساک فونسیکا میں منتقل نہیں کی گئیں۔ پاناما پیپرز ظاہر کرتے ہیں کہ موساک فونسیکا کو 2012ء میں جاکر اندازہ ہوا کہ وہ کمپنیوں کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ 2013ء میں نواز شریف ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بن گئے، ادارے کو اتنی تشویش ہوئی کہ اس نے کمپنیوں کو فوری طور پر نظر میں رکھنا شروع کردیا اور ہر چھ ماہ بعد ان کو چیک کرنے کے احکامات جاری کیے۔

موسیک فرانسکا کا کہنا ہے کہ سیاسی شخصیات اور ان سے متعلق افراد کی آف شور کمپنیوں کی اضافی جانچ پڑتال کیا جانی چاہیئے کیوں یہ پیسے سیاسی اثر رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے کمائے گئے ہوسکتے ہیں اور موسیک فرانسیکا نےایسی شخصیات کو واچ لسٹ پر رکھتے ہوئے اسپشل پالیسوں اور ضابط اخلاق واضع کیا ہے۔


مزید پڑھیں : وزیراعظم نواز شریف سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے خفیہ اثاثے منظرعام پرآگئے


یاد رہے کہ پانامہ لیکس میں  وزیراعظم نواز شریف سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے خفیہ اثاثے منظرعام پر آئے تھے، جس کے مطابق وزیراعظم کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔

پانامہ پیپرز کے مطابق مریم کو برٹش ورجن آئس لینڈ میں موجود نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کا مالک ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی جے کی جاری دستاویزات میں نیلسن انٹرپرائزز کا پتہ جدہ میں سرور پیلس بتایا گیا، جبکہ جون، 2012کی ایک دستاویز میں مریم صفدر کو بینیفیشل آنرقراردیا گیا۔

حسین اور مریم نے لندن میں اپنی جائیداد گروی رکھتے ہوئے نیسکول اور دوسری کمپنی کیلئے ڈچ بینک جینیوا سے 13.8 ملین ڈالرز قرض حاصل کرنے سے متعلق جون، 2007 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

اسی طرح حسن نواز شریف کو برٹش ورجن آئس لینڈز میں ہینگون پراپرٹی ہولڈنگز کا ’واحد ڈائریکٹر‘ ظاہر کیا گیا ۔

ہینگون نے اگست، 2007 میں لائبیریا میں واقع کیسکون ہولڈنگز اسٹیبلشمنٹ لمیٹڈ کو 11.2 ملین ڈالرز میں خرید لیا تھا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top