The news is by your side.

Advertisement

حسن نوازسے جےآئی ٹی کی 7 گھنٹے پوچھ گچھ

اسلام آباد:وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز پہلی بار پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیےپیش ہوئے، ساڑھے چھ گھنٹے تک جے آئی ٹی افسران نے اُن سے پوچھ گچھ کی۔

تفصیلات کے مطاق جے آئی ٹی کی جانب سے حسن نواز کو پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا گیا تھا جس میں پیشی کے وقت دستاویزات ساتھ لانے کے احامات دیے گئے تھے۔

حسن نواز کو دو روز قبل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا تھا تاہم درخواست پر آج اُن کی پیشی ہوئی، وہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لیےجوڈیشل اکیڈمی پہنچے جہاں افسران نے اُن سے تقریباً 7 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔

تفتیش کے بعد جب کو جوڈیشل اکیڈمی سے باہر آئے تو لیگی کارکنان کی بڑی تعداد نے انہیں دیکھ کر نعرے بازی شروع کردی جس پر حسین نواز نے ہاتھ ہلا کر نعروں کا جواب دیا اور میڈیا سے بغیر گفتگو کیے وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز کو بھی چوتھی پیشی کا سمن جاری کردیا گیا ہے اور انہیں ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔

 خیال رہےکہ اس سے قبل 31 مئی کو وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے کو جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کیاگیاتھا تاہم انہوں نے قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا اور کمیٹی سےمہلت مانگی تھی۔

حسین شہید سہروردی سے لیکرآج تک صرف ہمارا احتساب ہوا ہے، حسین نواز


یاد رہےکہ گزشتہ روزوزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہاتھا کہ میرے خاندان کے خلاف کوئی ثبوت ہے ہی نہیں تو سامنے کیا آئے گا حسین شہید سہروردی سے لےکر آج تک ہمارا احتساب ہی ہوتا آیا ہے۔

حسین نواز کا کہنا تھا کہ میں نے تمام سوالات کے جوابات دے دیے ہیں اب میرے جوابات سے جے آئی ٹی کے اراکین مطمئن ہوئے یا نہیں ہوئے یہ اُن سے پوچھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہاں کسی کے رویے پر بات کرنے نہیں آیا تاہم اگر کوئی رکن جے آئی ٹی فیئرہوکر نہیں چلا تو اس پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا ئے گا۔

وزیراعظم نوازشریف کے بڑے صاحبزادے کا کہناتھاکہ جے آئی ٹی نے کل پھربلایا ہے تاہم اس سے متعلق سمن ابھی نہیں ملا ہے لیکن جب بھی جے آئی ٹی طلب کرے گی میں قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ضرور آؤں گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں