The news is by your side.

Advertisement

دیہی افغانستان کے لوگوں‌ کے طالبان سے خوش ہونے کی وجہ کیا ہے؟

کابل: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دیہی افغانستان کے بیش تر لوگ طالبان سے خوش ہونے کا اظہار کر رہے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی فوجی انخلا اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امن آنے سے افغانستان کے دیہات میں اب معمولات زندگی ماضی کی سطح پر بحال ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دیہات میں گولی اور بارود کا دور ختم ہونے سے مقامی لوگوں کی زندگیاں ایک بار پھر کھیت کھلیان سے وابستہ ہو جائیں گی، جس کی وجہ سے وہ طالبان سے خوش ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے نمائندے نے اس حوالے سے شمالی افغانستان کے علاقے بلخ سے قریب تیس کلو میٹر کی دوری پر دشتان نامی گاؤں کے افراد سے بات چیت کی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب گولیوں کی آوازیں رک گئی ہیں، جنگ ختم ہو گئی ہے اور ہم طالبان سے بہت خوش ہیں، نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی طالبان کے حامی ہیں، ہم نے طالبان کے اقتدار پر قبضے پر خوشی بھی منائی، طالبان کے آنے سے اب ہر طرف سکون ہے۔

واضح رہے کہ افغان دیہات میں غربت کی سطح انتہائی سنگین ہو چکی ہے، دیہاتیوں کے پاس کھانے کو مناسب خوراک نہیں اور موسم بھی سرد ہونا شروع ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دشتان نامی گاؤں میں آسودہ حالی تھی اور خاندانوں کا آسانی سے گزر بسر ہو جاتا تھا، لیکن جنگ کے دور میں غربت اتنی بڑھی کہ زیادہ تر خاندان گھر بار چھوڑ کر چلے گئے، اور اب تھوڑے سے خاندان رہ گئے ہیں جو مشکل حالات میں بھی یہاں رہائش پذیر ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق کابل سمیت دوسرے شہروں میں حکومت کے ہر درجے میں کرپشن دیمک کی طرح پھیل چکی تھی، دیہات کے باسیوں کا خیال ہے کہ طالبان جہاں اپنی حکومت مضبوط کریں گے وہاں وہ ملک کے ہر طبقے میں پھیلی کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں