The news is by your side.

Advertisement

مایہ ناز شاعر جمیل الدین عالی کو بچھڑے 4 برس بیت گئے

لاہور : دوہوں اور نظموں کو پہچان دینے والے اردو ادب کے مایہ ناز شاعر، مترنم، ادیب اور محقق جمیل الدین عالی کی چوتھی برسی گزشتہ روز عزت و احترام سے منائی گئی۔

نوابزادہ جمیل الدین احمد خان یہ کسی ریاست کے والی نہیں بلکہ شاعری کے عالی جی ہیں جنہوں نے بیس جنوری سنہ انیس سوپچیس کو دہلی کے معزز گھرانے میں آنکھ کھولی، جمیل الدین عالی اعلی تعلیم یافتہ اور قابل بینکر تھے۔

اس دن کی مناسبت سے ان کے اہل خانہ کی جانب سے برسی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جبکہ ان کے دوست احباب نے بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جس میں ان کی طویل ملکی قومی، سماجی، عوامی، فلاحی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

جمیل الدین عالی پاکستان رائٹرز گلڈ کے اعلی عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ انجمن ترقی اردو سے ایک طویل عرصہ تک وابستہ اور اپنی انتہائی قابلیت سے ملک میں اردو زبان کی ترقی اور ترویج کیلئے کام کرتے رہے۔

ان کی لکھی ہوئی کتابوں میں ’اے میرے دشت سخن، لاحاصل، نئی کرن، دعا کر چلے اور صدا کر چلے شامل ہیں نیز ان کے مشہور سفر ناموں میں دنیا میرے آگے، تماشا میرے آگے، شنگھائی کی عورتیں، ایشین ڈرامہ، بس ایک گوشہ، مہر ماہ وطن، اصلات بینکاری قابل ذکر ہیں اسی طرح ان کے دوہوں کو بھی زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔

جمیل الدین عالی پاکستان میں دوہو ں کے خالق جانے جاتے ہیں، تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ہمراہ کراچی آگئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

جمیل الدین عالی 23 نومبر 2015 کو 90 برس کی عمر میں دار فانی سے رخصت ہوئے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں