The news is by your side.

Advertisement

نوجوان شاعر سبحان خالد، تعارف اور نمونۂ کلام

اردو شاعری کو جدّت کے رنگوں سے بھرنے والے نوجوان شعرا میں ایک نام سبحان خالد کا بھی ہے جنھوں نے غزل جیسی مقبول ترین صنفِ سخن کو اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ سبحان خالد کا تعلق تلہ گنگ، چکوال سے ہے۔ انھوں نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی ہے۔

انھوں نے صرف غزل ہی نہیں‌ نظم کے میدان میں بھی اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ مشقِ سخن اور مطالعے کے ساتھ سبحان خالد اپنے کلام کو فکرونظر کی پختگی اور تنوع سے آراستہ کررہے ہیں۔ ان کے اشعار میں سلاست و روانی کے ساتھ جدید طرز کی بندش دکھائی دیتی ہے۔ اس نوجوان شاعر کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کی چند غزلیں پیشِ خدمت ہیں۔

غزل
خواب میں یار کا دیدار بھی ہو سکتا ہے
یعنی یہ ہجر ثمر بار بھی ہو سکتا ہے

مسکرانے میں قباحت نہیں پر دھیان رہے
آنکھ سے اشک نمودار بھی ہو سکتا ہے

مستقل عہدِ گُزشتہ پہ نظر ٹھیک نہیں
اس طرح راستہ دشوار بھی ہو سکتا ہے

کھلتے رہنے سے ہی پہچان ہے دروازے کی
بند رہنے سے یہ دیوار بھی ہو سکتا ہے

رات دن رونقِ دنیا میں مگن رہنے سے
دل زمانے کا طرف دار بھی ہو سکتا ہے

سبحان خالد کی یہ غزل ملاحظہ کیجیے۔

آنکھ سے اشک گرا، اشک سے تصویر ہوئی
یوں زمانے میں مِرے رنج کی تشہیر ہوئی

پہلے پہلے تو فقط عشق ہوا کرتا تھا
یہ اداسی تو بہت بعد میں تعمیر ہوئی

مجھ کو معلوم ہے یا میرا خدا جانتا ہے
کن وسائل سے مِرے خواب کی تعبیر ہوئی

بے زباں دل کے ارادوں کو زباں دیتے ہوئے
اس کو بھی وقت لگا مجھ سے بھی تاخیر ہوئی

وہ محبت جسے نادانی میں اپنایا تھا
آخرِ کار وہی پاؤں کی زنجیر ہوئی

ایک اور خوب صورت غزل پڑھیے

تیرے پاکیزہ تصوّر میں جو باندھا مصرع
رشک کرنے لگا اس مصرع پہ مصرع مصرع

پڑھنے والوں کو مہک آتی رہے گی میری
لاکھ کوشش سے چرا لے کوئی میرا مصرع

بن ترے عمر گزرنے لگی ایسے جیسے
یاد رہ جائے کسی شخص کو آدھا مصرع

جو مرے واسطے بخشش کا سبب بن جائے
کاش کہہ پاؤں کوئی نعت کا ایسا مصرع

تیرے آنے سے کھلے ایسے خوشی کے معنٰی
جیسے کھل جائے اچانک کوئی الجھا مصرع

(انتخاب و پیشکش: عبدالرّحمان واصف)

Comments

یہ بھی پڑھیں