کراچی پولیس کا ملزمان سے انوکھا اظہارِ محبت -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی پولیس کا ملزمان سے انوکھا اظہارِ محبت

کراچی: پولیس کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’چھترول‘ سے کون واقف نہیں‘ لیکن شہرِ قائد کے ایک ایس ایچ او نے تو تشدد کے لیے استعمال ہونے والے ’چھتر‘ نامی اس ہتھیار پر ملزمان کے لیے محبت بھرے الفاظ تحریر کردیے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے تھانے جمشید کوارٹرز کے ایس ایچ او کے پاس ایک ایسا چھتر ہے جس پر ’ آئی لو کرمنلز ‘ کے الفاظ تحریر کیے گئے ہیں‘ ملزمان پر تشدد پر پابندی ہونے کے باوجود پاکستان بالخصوص کراچی کی پولیس آج بھی یہ روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او جمشید کواٹر نے 16 انچ کا چھتر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کے نیچے رکھ ہوا ہے ‘ جس سے تفتیش کے لیے لائے گئے ملزمان کی تواضع کی جاتی ہے۔تصویر کے نیچے چھتر کے ساتھ 20 انچ کا ٹیپ سے لپٹا ہوا ڈنڈا بھی موجود ہے جو کہ ملزمان کی مزاج پرسی کے کام آتا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی کراچی کی پولیس چھترول اور تھرڈ ڈگری میں بدنام رہی ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ آج اس اکیسویں صدی میں اب بھی مختلف تھانوں میں چھتر کا دل کھول کر استعمال کیا جاتا ہے‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماضی میں چھتر نامی اس ہتھیار پر ’420‘ اور ’ آجا موہے بالما ‘ تیرا انتظار ہے ‘ جیسے الفاظ لکھےجاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں


پولیس تشدد سےنجی گیسٹ ہاؤس کاملازم جاں بحق

یاد رہے کہ ماضی میں پولیس کے بہیمانہ تشدد کے سبب ملزمان کی ہلاکت کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں‘ سنہ 2016 میں پولیس پر جوہر ٹاؤن میں واقع  ایک ہوٹل کے مالک نے الزام عاید کیا تھا کہ تفتیش کی غرض سے آئے پولیس اہلکاروں نے ویٹر کو تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہوئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں