site
stats
عالمی خبریں

ضبط کی گئی ہزاروں لیٹر شراب چوہے پی گئے، پولیس کا دعویٰ

نئی دہلی: بھارتی ریاست بہار کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ہزاروں لیٹر ضبط کی جانے والی شراب چوہے نوش کرگئے۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کی ریاست بہار میں گزشتہ سال سے شراب کی فروخت اور پینے پر پابندی عائد ہے، جس کے بعد سے پولیس نے اب تک نولاکھ لیٹر سے زائد شراب ضبط کرلی۔

پولیس افسر نے منو مہاراج نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’پولیس افسران نے منگل کے روز آگاہ کیا کہ ہزاروں لیٹر ضبط شدہ شراب چوہوں کی نذر ہوگئی‘‘۔ منومہاراج کے مطابق پولیس افسران کے حیران کن دعویٰ سے متعلق تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

منورمہارج کے مطابق تفتیش کے دوران اگر کوئی اہلکار شراب کی خریدوفروخت یا شراب نوشی میں ملوث پایا گیا تو قانون کے مطابق اُس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور وہ دس سال کی سزا کا سامنا کرے گا جبکہ ممکن ہے کہ اُسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

یاد رہے بہارکے وزیراعلیٰ نے گزشتہ برس ریاست میں شراب پی کر تشدد کے واقعات میں اضافے کو دیکھتے ہوئے اس کی فروخت اور پینے پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

وزیراعلیٰ بہار نتیش کمار نے عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد مؤقف اختیار کیا کہ ’’ریاست میں غربت کے باعث پریشان لوگ شراب نوشی کرتے ہیں جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ اس کی لت میں پڑ جاتے ہیں، شراب کی فروخت پر پابندی غربت کے خاتمے میں بھی مفید ثابت ہوگی‘‘۔

شراب پر قانونی پابندی کے بعد خلاف ورزی کرنے والے کو  دس سال کی سزا کا قانون اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور بھی کیا گیا تھا، باقاعدہ منظوری کے بعد پولیس نے ریاست میں شراب کے خلاف مہم چلائی اور اس کا کاروبار کرنے والوں کو الٹی میٹم بھی دیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے غیر قانونی طور پر گھروں میں شراب رکھنے کے الزام میٰں 40 ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار بھی کیا تھا جنہیں عدالتوں کی جانب سے سزائیں بھی سنائی گئیں تھیں۔ شراب کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن میں بوتلیں بڑی تعداد میں پکڑی گئیں تھیں جن کو رکھنے کےلیے علیحدہ اسٹوریج روم بھی حاصل کیے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top